27 رمضان المبارک کے مبارک دن
ہائر ایجوکیشن کمیشن کا مبارک اعلان۔
تمام پاکستانی یونیورسٹیوں کے ہر طالب علم کے لیے فہم قران کریم مضمون کو نصاب کا حصہ بنا دیا گیا۔
اسلام آباد(نمائندہ ذیشان نجم خان)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق 27 رمضان جمعة الوداع کے روز ایک تاریخ ساز اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار احمد چئیرمین ایچ ای سی نے تمام پاکستانی پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر تمام یونیورسٹیوں کے طلبه وہ طالبات کے لیے دو کریڈٹ کورسز فہم قران کریم / انڈرسٹینڈنگ قرآن کے نام سے نصاب کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے تاکہ یونیورسٹی ڈگری کی تکمیل سے پہلے اس کا قران کریم سے ایک مضبوط تعلق بن چکا ہو۔ایچ ای سی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے اس سلسلے میں ایچ ای سی میں ایک جامع روڈ میپ کا اعلان کیا ہے جس کی روشنی میں اس سبجیکٹ کی تدریس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی لیول پر فہم قران کا کلچر عام کرنے کے لیے مزید خصوصی اقدامات ایچ ای سی کی نگرانی میں کیے جائیں گے ۔ہر ڈسپلن کے یونیورسٹی سٹوڈنٹ کے لیے ایک انقلابی قدم ہے جس کے نوجوانوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ایچ ای سی نے اس فیصلے کی کامیابی اور اس کے تمام اہداف حاصل کرنے کے لیے کے لیے ٹیچر ٹریننگ کورسز کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ جدید اور موثر انداز میں فہم قرآن كريم کی نعمت ہر طالب علم کا مقدر ہو۔ماضی کے فیصلوں اور اقدامات کے برعکس ایچ ای سی نے تمام یونیورسٹیوں کے لیے گائیڈ لائن جاری کی ہے جس کے مطابق یہ دونوں سبجیکٹ کریڈٹ کورسز ہوں گے اور پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ ان کو پڑھایا جائے گا۔ایچ ای س نے اس مقصد کے لیے فہم قران کے جدید سلسلے معلم القرآن کو منتخب کیا ہے تاکہ طالب علم قرانی آیات اور جملوں کو بآسانی سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر سکے۔ نیز ان سبجیکٹ کو پڑھانے کے لیے عربی اور اسلامیات کے ٹیچرز کی ٹریننگ کے لیے ڈاکٹر عبيد الرحمن بشير فیکلٹی آف عریبک انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کو فوکل پرسن کے طور پر مقرر کیا ہے۔27 رمضان کے اس مبارک موقع پر ایچ ای سی کا یہ اعلان تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے جو ہر مسلمان کے لیے انتہائی خوشی اور اطمینان کا باعث بنا ہے اور یہ حقیقی معنوں میں نظام تعلیم میں ایک بہت بڑے خلا کو پر کرنے کا باعث بنے گا اور نسلوں کی فہم قران کریم سے محرومی اپنے اختتام کو پہنچے گی۔
