BBC Urdu TV

2019 سے تاحال۔۔۔۔ متاثرین صحافی

2019 سے تاحال۔۔۔۔ متاثرین صحافی

ایک گروپ کے کچھ صحافی جن کے پیٹ بھرے ہیں وہ متاثرین صحافیوں کی بات کو منفی انداز میں لیکر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ پیش کرتے ہیں اور ان کے احتجاج و مطالبے پر سخت منفی تنقید کرتے ہیں ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ ان کے دکھ درد کا مداوا بنیں گزشتہ دنوں سکھر کے ایک صحافی کی حالتِ زبوں سامنے آئی ایسی کئی صحافی ہیں۔ یہ ہم سب صحافیوں بلخصوص صحافی تنتظیم کے عہدیداران کا قصور ہے کہ وہ میڈیا مالکان سے جواب طلبی نہ کرسکے کہ وہ کھربوں کے نئے سے نئے کاروبار شروع تو کررہے ہیں اور جاری کیئے ہوئے ہیں مگر کم تنخواہ دار صحافیوں کو یہ کہہ کر فارغ کیاگیا کہ تنخواہ کی رقم دینے کو نہیں افسوس اور تف ہے ان صحافی ذمہ داروں پر کہہ انھوں نے اس بابت سپریم کورٹ اور ایوان بالا سے سخت نوٹس لینے کیلئے نہ پٹیشن داخل کروائی اور نہ ہی یک زبان ہوکر کام چھوڑ احتجاج کروایا ذاتی مفادات کو ترجیح دیں گے تو کبھی بھی کامیابی میسر نہیں آئیگی

Exit mobile version