اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

بیسوی صدی جسے ہم سائنس کی صدی کہتے ہیں جہاں سائنس نے بے پناہ ترقی کی اور ہم پر کائنات

جی_جے_357_ڈی

بیسوی صدی جسے ہم سائنس کی صدی کہتے ہیں جہاں سائنس نے بے پناہ ترقی کی اور ہم پر کائنات

کے ایسے راز آشکارا کئے جس سے ہم بے خبر تھے۔ ماہرین فلکیات آج بھی اس کوشش میں ہیں کہ وہ کائنات کو مزید گہرائی سے سمجھے اور اس کے بارے میں مزید جان سکے۔

اس عظیم کائنات کی کھوج میں مصروف حضرت انسان نے ایسے ایسے سیاروں کی دریافتیں کی جو نا صرف دکھنے میں زمین جیسے ہیں بلکہ وہاں پانی بھی موجود ہوسکتا ہے جو ہمارے ذہنوں میں دنیا کا سب سے ذیادہ پوچھا جانے والا سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟؟

1 اگست 2019 کو پلینیٹ ہنٹر نامی خلائی دوربین نے زمین سے 31 نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک سیارہ دریافت کیا جو کہ قابل رہائش سمجھا جاتا ہے۔ اس سیارے کا نام سائنسدانوں نے GJ357 d رکھا ہے اور یہ اپنے ستارے کے گرد اپبا ایک چکر 56 یا 57 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔

اس سیارے کے ساتھ دو اور سیارے بھی دریافت ہوئے ہیں جسے GJ357 B اور C کہا جاتا ہیں لیکن چونکہ وہ اپنے سورج کے کچھ زیادہ ہی قریب ہے تو وہاں کا ٹیمپریچر بھی زیادہ ہے اسلئے ان دونوں سیاروں میں زندگی کا ہونا ناممکن ہے البتہ GJ 357D جو اپنے سورج سے اتنے ہی فاصلے پر موجود ہیں جتنی ہماری زمین ہمارے سورج سے فاصلے پر موجود ہے۔

ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ GJ357 D ایک ایسا سیارہ ہے جو دکھنے میں زمین سے بہت زیادہ مماثلت رکھتا ہے اور یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ وہاں زندگی کسی شکل میں پنپ رہی ہو۔ اس سیارے کو جس دوربین نے دریافت کیا اسے 2018 میں لانچ کردیا گیا تھا اور لانچ کرنے کے کچھ مہینے بعد ہی اس نے 53 نوری سال کے فاصلے پر موجود پہلی بار ایک سیارہ دریافت کیا تھا اور وہ بھی زمین کی طرح ہی دکھتا تھا اور اب یہ دوسری باری تھی جب اس نے Gj357 d نامی سیارہ دریافت کیا اور ساتھ ہی مزید دو اور سیارے بھی اسکے ساتھ موجود ہیں۔

ماہرین فلکیات کا خیال تھا کہ یہ دوربین آنے والے دو یا تین سالوں میں دو لاکھ ستاروں کی روشنی کو مانیٹر کریگا اور مزید نئے نئے سیاروں کی دریافتیں ہوگی۔ اب تک تو زمین جیسے بہت سارے سیارے دریافت ہوچکے ہیں لیکن یہ سیارہ سائز اور شکل میں زمین جیسا ہے جو اسے حیران کن بناتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہاں پانی موجود ہے چونکہ زندہ چیزوں کا انحصار پانی پر ہے اسلئے قوی امکان ہے کہ وہا کسی شکل میں زندگی بھی موجود ہو۔ اگر آپ اس سیارے کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہائیڈرا نامی ستاروں کے ایک جھرمٹ میں موجود GJ357 نامی ستارے کے گرد گھوم رہے تین سیارے ہیں جن میں سے GJ357 D کو زندگی کیلئے موزون مانا جاتا ہے۔ اس ستارے کو عام آنکھ سے دیکھنا لگ بھگ ناممکن ہے البتہ ایک ٹیلی سکوپ سے آپ اس ستارے کا مشاہدہ کرسکتے ہیں…..

تحریر______کاشف احمد

سائنس پر مبنی وڈیوز کیلئے اس چینل پر وزٹ کرسکتے ہیں??
https://www.youtube.com/channel/UCJZ8RclQodOpSnLizl3OWXg

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You