تاریخ: 30 مئی 2025ء
سعد محمد مدنی
نائب ناظم اعلیٰ، مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب
“18 سال سے کم عمر نکاح پر پابندی: شریعت، عقل، فطرت اور سائنس کے خلاف ایک خطرناک قانون”
پاکستان میں حالیہ قانون سازی کے ذریعے 18 سال سے کم عمر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے نکاح کو ممنوع قرار دینا اسلامی شریعت، انسانی فطرت، سائنسی حقائق اور معاشرتی توازن کے خلاف ایک سنگین اقدام ہے۔ یہ قانون دراصل مغربی ایجنڈوں کی پیروی اور بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ ہے، جس کے تحت نکاح جیسے مقدس ادارے کو بدنام کر کے فحاشی، بے راہ روی اور آزاد خیالی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
⸻
قرآنِ مجید کی روشنی میں
اسلام میں بلوغت کے بعد نکاح کو محض اجازت نہیں بلکہ بعض مواقع پر فرض یا واجب قرار دیا گیا ہے۔ شریعت میں نکاح کی شرط “بلوغت” ہے، نہ کہ کوئی مخصوص عمر۔
“وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ…” (النور: 32)
“اور نکاح کرو ان لوگوں کا جو بے نکاح ہیں تم میں سے…”
“فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ صَالِحَاتٍ فَادْفَعُوا إِلَيْهِنَّ أُجُورَهُنَّ” (النساء: 25)
یعنی جب وہ نکاح کے قابل ہو جائیں (بلوغت حاصل کر لیں) تو ان سے نکاح کیا جائے۔
“وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ…” (النساء: 6)
یہاں “بلوغ النکاح” یعنی نکاح کی عمر یا صلاحیت کو واضح کر دیا گیا ہے۔
⸻
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
رسول اللہ ﷺ نے نوجوانی میں نکاح کرنے کی زور دار ترغیب دی:
“مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ…” (صحیح بخاری: 5066)
“جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے، یہ نظر کو نیچا کرنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والا عمل ہے۔”
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ وہ کم عمر تھیں۔ اس پر کسی صحابی نے اعتراض نہیں کیا، نہ ہی اسلام نے عمر کی کوئی حد مقرر کی، بلکہ بلوغت اور جسمانی و ذہنی صلاحیت کو معیار بنایا گیا۔
⸻
سائنس اور طب کی روشنی میں
1. سائنس کہتی ہے کہ بلوغت (Puberty) کی عمومی عمر لڑکیوں میں 9 سے 14 سال اور لڑکوں میں 11 سے 16 سال ہوتی ہے۔
2. WHO (World Health Organization) کے مطابق نوجوانوں میں تولیدی صلاحیت بلوغت کے فوراً بعد شروع ہو جاتی ہے۔
3. Endocrinology کی سائنسی تحقیق کے مطابق Hormonal تبدیلیاں 12 سے 14 سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہیں اور انسان جنسی، ذہنی اور جذباتی اعتبار سے شادی کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔
4. تاخیر سے شادی کے نقصانات میں ڈپریشن، جنسی بے راہ روی، اور ذہنی خلفشار شامل ہیں، جیسا کہ کئی عالمی تحقیقی رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے۔
⸻
معاشرتی و اخلاقی اثرات
1. نکاح میں تاخیر بے حیائی، فحاشی، ناجائز تعلقات، اور معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔
2. والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بالغ ہوتے ہی نکاح کا بندوبست کریں، نہ کہ مغربی قوانین کا انتظار کریں۔
3. اسلامی معاشرہ نکاح کے ذریعے طہارت و عفت کو فروغ دیتا ہے، جبکہ مغربی معاشرے میں دیر سے شادی یا شادی نہ کرنا فحاشی کو جنم دیتا ہے۔
⸻
حالیہ قانون کی خطرناک خامیاں
1. شریعتِ مطہرہ سے متصادم
2. آئینِ پاکستان (شق 227) کے خلاف
3. مغربی ایجنڈوں کا نفاذ
4. نوجوان نسل کو جنسی آزادی کی طرف دھکیلنے کی کوشش
5. خاندانی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش
⸻
ہمارا اور پاکستان کی عوام کا وا ضح مؤقف ہے
ہم اس قانون کو غیراسلامی، غیرآئینی اور غیرفطری قرار دیتے ہیں اور حکومتِ پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. نکاح کے لیے شرعی بلوغت کو بنیاد بنایا جائے، نہ کہ 18 سال کی مصنوعی حد۔
2. ایسے قوانین کو واپس لیا جائے جو اسلامی شعائر، شرم و حیاء، اور خاندانی نظام پر حملہ آور ہوں۔
3. دینی جماعتوں، علماء ، اور ماہرینِ طب و نفسیات کی مشاورت سے قانون سازی کی جائے۔
4. مغربی این جی اوز اور لبرل لابی کے دباؤ میں آ کر اسلامی اقدار کا سودا نہ کیا جائے۔
⸻
اختتامیہ دعا
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ پاکستان کو قرآن و سنت کے مطابق نظام عطا فرمائے، نوجوان نسل کو بے راہ روی سے محفوظ رکھے، اور نکاح جیسے مقدس ادارے کو معاشرے میں آسان اور عام بنائے۔
