BBC Urdu TV

یہودی کمپنی ریاست پاکستان کو دھوکہ دینے میں کامیاب

یہودی کمپنی ریاست پاکستان کو دھوکہ دینے میں کامیاب

ایک رپورٹ کے مطابق نیسلے کمپنی نے گزشتہ پانچ سالوں میں چودہ ارب لیٹر پانی پاکستانی زمین سے نکالا جبکہ تین کروڑ اس مد میں حکومتِ پاکستان کو ٹیکس ادا کیا اور پھر وہی پانی چار سو ارب روپے کا ہم پاکستانیوں کو فروخت کردیا اور زیر زمین پانی کے زخیرے کو بھی نا تلافی نقصان سے دوچار کیا۔ اس عمل کا کیس سپریم کورٹ میں داخل ہوا جس کا دفاع صرف دو کروڑ فیس لے کر پی پی پی کے انتہائی دانشور رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل اعتزاز احسن نے لیا اور پیروی کی۔ ابتک عوام فیصلے کی منتظر ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان کو ہر ایک نے باپ کی جاگیر سمجھ لیا ھے ایوان میں منتخب ہونے والے سب کے سب اپنا اپنا کاروبار چمکاتے ہیں اور کچھ منافقت سے گزارا کرتے ہیں۔ ریاستِ پاکستان سن ساٹھ سے بنانا اسٹیٹ بنی ہوئی ہے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا جوس نکال لیا گیا ھے عوام کاجینا محال کرپشن لوٹ مار ڈکیتیاں رہزنیاں زناکاریاں ذایاتیاں ظلم و بربریت انتہائی مہنگائی کاروبار سرگرمی مانند درآمدات کی بھرمار جبکہ برآمدات میں رکاوٹیں بیروزگاری کا انبار سکہ بے قدر تعلیم و صحت ناپید البتہ عوام بھکاری بنادی گئی ہے اس حالات کے سب کے سب ذمہدار ہیں تمام سیاستدان تمام بیوروکریٹس تمام علماء و دین تمام محقق و دانشور تمام میڈیا اور تمام تنظیمیں۔ اب بھی وقت ہے خود کو سنبھالیں اور قومی خذانے کو بھرنے کیلئے تمام کے تمام ممبران اسمبلی و سینیٹ تمام کے تمام گریڈ انیس تا بائیس کے بیوروکریٹس تمام کے تمام بڑی بڑی انڈسٹریاں کارخانے اپنی سالانہ منافع سے بیس فیصد قومی خذانے میں والینٹیرین جمع کرادیں اسی طرح وزراء و مشیران سیاستدان بھی اپنی تمام کی تمام دولت کا بیس فیصد اور میڈیا مالکان بھی اپنی دولت کا بیس فیصد جمع کرائیں اور خاص طور پر زمینداران سے پچیس فیصد لیں کیونکہ اس طبقے نے ستر سالوں سے حکومت سے گرانٹ لیتے رہے اور معاف کراتے رہے یہ مافیا سب سے بڑا ھے۔ پھر سب سے پہلے آئی ایم ایف قرض سے جان چھڑائیں پھر اپنی برآمدات کو بڑھائیں اور روزگار کے مواقع کیلئے نئی سے نئی انڈسٹریاں چلائی جائیں تب ہی ہم غربت مہنگائی کے بھنور سے نکل سکیں گے کمزور لاغر غریب تر عام عوام پر بوجھ ڈالنا آئین و ریاست کے خلاف ہے آئین و دستور میں لکھا ہے کہ منتخب حکومت فلاح و بہبود پر حکومت چلائے گی اور عوامی سہولیات و بنیادی ضروریات کو لازم بہم پہنچائی گی وگرنہ حکومت پر رہنے کا جواز کھو دیگی یہی حقیقت ہے یہی سچائی کوئی سیاسی جماعت احتجاج میں آئینی و دستور کی شق بیان نہیں کرتا کیونکہ دوسری جانب وہ بھی خود کو مجرم کے خانہ میں دیکھتا ھے الله پاکستان پر رحم فرمائے آمین ۔۔۔

جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ; ممبر کراچی پریس کلب

Exit mobile version