یوجیز اور کلبس کسی کی ذاتی جاگیر نہیں
پاکستان بھر کے یوجیز اور کلبس میں دیکھا گیا ھے کہ کچھ گروپس عرصہ دراز سے چلے آرہے ہیں جب ان سے آڈٹ احتساب یا پھر عملی کارکردگی کے متعلق پوچھا جاتا ھے تو وہ بہت سیخ پا ہوجاتے ہیں جواب دینے کے بجائے راہ فرار اختیار کرتے ہیں یا پھر ان کے دائیں بائیں والے دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں سب سے پہلے تمام ممبران کو یکجا اور متحد ہوکر خود احتساب کرنا ھوگا وہ احتساب خاموش نہ نظر آنے والا ھونا چاہئے یعنی انتخابات میں باری لینے والے اور برسوں سے برجمان رہنے والوں کیستھ فیصلہ کرنا یقیناً ووٹ دیتے ہوئے انصاف سے کام لینا کہ جو حقیقت میں صحافی برادری کیلئے مسلسل ساتھ کھڑا رہا اور مسائل کو حل کرنے کیلئے عدالتی راہ اور حکومتی ایوان کو جھنجھڑنا جانتا ھو اور مسائل حل کراسکتا ھو اسے ہی کامیاب کرنا چاہئے وہ امیدوار نہ سیاسی ہو اور نہ جماعتی یعنی کسی بھی جماعت سے تعلق نہ رکھتا ھو۔۔۔۔
جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ و ممبر کراچی پریس کلب
