BBC Urdu TV

*ہیوی ٹرانسپورٹ کا شہر میں داخلہ ممنوع*

{"remix_data":[],"remix_entry_point":"challenges","source_tags":["local"],"origin":"unknown","total_draw_time":0,"total_draw_actions":0,"layers_used":0,"brushes_used":0,"photos_added":0,"total_editor_actions":{},"tools_used":{},"is_sticker":false,"edited_since_last_sticker_save":false,"containsFTESticker":false}

*ہیوی ٹرانسپورٹ کا شہر میں داخلہ ممنوع*

تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی

طبیعت کی ناسازی کے باوجود انتہائی میں جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار مجبور ہوگیا ھوں کہ منی پاکستان میگا سٹی اور پاکستان کا سب سے بڑا میٹروپولیٹن شہر کراچی ناقص ٹریفک انتظامات اور ناقص شہری انتظامیہ کی مایوس کارکردگی کے سبب ان سب کو عقل کے ناخن دینے کیلئے قلم اٹھایا ھے کہ شائد کچھ شعور تعلیم اور تہذیب موجود ھو۔ ایک ریکارڈ کے مطابق کراچی شہر بھر میں سب سے زیادہ اموات حادثات اسکے بعد رہزنی و ڈکیتی کی وجہ سے ہوتی ہیں جو دونوں سندھ پولیس کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ کراچی شہر میں 1000 سی سی سے بڑی کوئی لوڈر گاڑی چلانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہ دی جائیگی۔ بھاری ٹرانسپورٹ ہائی وے، موٹروے اور بائی پاس تک محدود رکھا جائے۔ اندرون شہر سامان و دیگر ترسیلات کی تقسیم 800 سے 1000 سی سی گاڑیوں کے ذریعے کی جائے البتہ پیٹرول ٹینکرز کو تمام احتیاطی تدابیر کا پابند رکھتے ہوئے شب 12 بجے کے بعد اجازت دی جائے۔ کسی فرد کی ہلاکت ایک کنبہ ایک خاندان کی ہلاکت کے مترادف ھے۔ دوسرا یہ کہ سندھ پولیس ڈکیتوں رہزنوں کا قلع قمع کرنے سے قاصر ھے تو اعتراف کرلے تاکہ پھر عوام خود جرائم کا خاتمہ کرکے دکھاسکتے ہیں پولیس افسران اور وزیراعلیٰ سندھ بخوبی جانتے ہیں کہ سندھ پولیس میں کالی بھیڑیں بھری پڑی ہیں جنکا خاتمہ کئے بغیر بہتر کارکردگی ناممکن ھے یہ کالی بھیڑیں سیاسی تقرریوں پر مشتمل ہیں۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار نے کہا ھے کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس انکے ان مشورے پر ضرور غور کریں اور عملی جامع پہنائیں تاکہ عوام اور ٹرانسپورٹرز میں براہ راست تصادم نہ ہو کیونکہ ایک جانب عوام کا مرنا ناقابل برداشت تو دوسری جانب قیمتی گاڑیوں کا جلنا ناقابل قبول۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ حکمت دانائی تدبر اور سوچ کیساتھ کیا سندھ حکومت اور سندھ پولیس بہتر کارکردگی کا ثبوت پیش کرتے ہیں یا جاہلیت اختیار کرکے شعلہ بلند کرتے ہیں

Exit mobile version