*ہم آج تک ڈینگی کے اسپرے میں استعمال ہونے والی ادویات جرمنی سے درآمد کررہے ہیں جو لمحہ فکریہ اورہمارے صحت وعلاج کے شعبہ کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*
*بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص نہ ہونے اور اس کو معیوب سمجھنے کی وجہ سے اس مرض میں اضافہ ہورہاہے۔ڈاکٹر خالدعراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہماری ریاست صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ہمیں اپنی صحت کا خیال خود رکھنا ہوگا لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم مرض لگنے کا انتظار کرتے ہیں اس کے بعد اس کی تشخیص کے ٹیسٹ اور علاج کی کوشش کی جاتی ہے۔ مختلف بیماریوں اور بالخصو ص بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص نہ ہونے اور اس کو معیوب سمجھنے کی وجہ سے اس مرض میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہونے کی وجہ سے یہاں پر اوسطاً عمر باسٹھ سال ہے جبکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں اناسی سال اور فاریسٹ ممالک میں بھی اوسطاً عمر ستاتر سال ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آج تک ڈینگی کے اسپرے میں استعمال ہونے والی ادویات جرمنی سے درآمد کررہے ہیں، ہم گزشتہ بیس سال میں ڈینگی کی اسپرے میں استعمال ہونے والی ادویات تیار نہیں کرسکے جو لمحہ فکریہ اور ہمارے صحت و علاج کے شعبہ کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ بائیو کیمسٹری کے زیر اہتمام اور یونیورسٹی آف کراچی المنائی ایسوسی ایشن بالٹی مور امریکہ کے اشتراک اور پروفیسر ڈاکٹر شمیم اے قریشی کی زیر نگرانی آڈیو ویژول سینٹر جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینار بعنوان”صحت دولت ہے:اس لفظ کو پھیلائیں“ اور ای پوسٹر کمپٹیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے زبردستی کوئی صحتمندانہ سرگرمیاں نہیں کراسکتا، آپ کو اپنی صحت کی بہتری کیلئے خود اقدامات کرنے ہوں گے۔ شیخ الجامعہ نے شعبہ بائیو کیمسٹری کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے آگاہی سیمینارز کا انعقاد خوش آئند اور ناگزیر ہیں۔ اس موقع پر بقائی انسٹی ٹیوٹ ذیابیطس کے ڈاکٹر ظفر عباسی نے ذیابیطس کے خطرات سے بچنے کیلئے صحت کے عمدہ اصول سے متعلق آگاہی دی۔ وفاقی اُردو یونیورسٹی نے طلبہ کو اپنے لیکچر میں صحت کیلئے ذہنی دباؤ کے اثرات اور اس سے بچنے کے طریقے پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر طلباوطالبات نے مختلف بیماریوں اور ان سے بچنے کے طریقہ کار پر مشتمل مختلف پوسٹرز تیار کئے جن کی جانچ ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر بلال، ضیاء الدین یونیورسٹی کی ڈاکٹر مسرت، اُردو یونیورسٹی کی ڈاکٹر سمیرا اور جامعہ کراچی کی ڈاکٹر طوبیٰ لطیف نے کی۔پوسٹرز تیار کرنے والے طلبہ میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔
