تحریر:برگیڈیر (ر) بشیرآراٸیں
*قصوروار کون*
ہمارے شہر نواب شاہ (اب شہید بےنظیرآباد) کو قومی ریلوے پٹری نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے ۔ مشرقی حصہ پرانا نوابشاہ اور مغربی حصہ نیا نوابشاہ کہلاتا ہے ۔ شہر کے دونوں حصوں کو ملانے کیلیے شہر کے جنوب اور شمال میں ریلوے کی پٹری پر دو اوور ہیڈ برج بناٸے گٸے ہیں جو ریلوے اسٹیشن کے مین پلیٹ فارم سے کافی دور ہیں ۔ اگر آپ پیدل ہیں تو آرام سے ریلوے پٹری کراس کرکے پرانے سے نٸے یا نٸے سے پرانے نوابشاہ جا سکتے ہیں اور اگر کار یا موٹر ساٸیکل پر ہیں تو اوور ہیڈ برج سے جانا پڑے گا ۔
میں 2001 میں لیفٹیننٹ کرنل تھا اور اوکاڑہ کینٹ میں 64 میڈیکل بٹالین کمانڈ کر رہا تھا ۔ بچے نوابشاہ میں بی بی جی میاں جی کے پاس ہی رہتے تھے ۔ انڈیا سے کسی بھی وقت جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا ۔ ہم سرحدوں پر تیاری حالت میں تھے ۔ بڑی مشکل سے چھ ماہ بعد چھٹی کھلی تو میں نوابشاہ کیلیے ساہیوال سے شالیمار ایکسپریس میں بیٹھ گیا ۔ ٹرین نوابشاہ ریلوے پلیٹ فارم پر رکی ۔ میں نے اپنا بریف کیس اٹھایا اور پٹری کراس کرکے پیدل ہی گھر کی طرف چل نکلا ۔ دس منٹ میں گھر پہنچ گیا ۔ بچے اور والدین دیکھ کر خوش ہوگٸے کیونکہ ہم آٹھ ماہ بعد مل رہے تھے اور میں بنا بتاٸے ہی گھر پہنچ گیا تھا ۔
آدھ گھنٹے بعد مجھ سے بڑے بھاٸی ایڈووکیٹ محمدعلی اپنے کورٹ کچہری سے گھر پہنچے تو سیدھے گھر کی اوپری منزل پر مجھ سے ملنے آگٸے ۔ ہنستے ہوٸے کہنے لگے یار تو ٹرین سے اتر کر پیدل گھر کیوں آیا ۔ شہر میں جس جس نے بھی تجھے دیکھا ہے حیران ہوکر مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ کرنل صاحب بریف کیس اٹھاٸے پیدل کیوں جارہے تھے ۔ میں نے کہا علی بھاٸی میں تندرست آدمی ہوں پیدل کیوں نہیں آسکتا اور ہاں اگر آپکو بتاتا تو آپ لینے آتے ۔ پھر ہمیں اوور ہیڈ برج سے گھر آنا پڑتا اور مجھے خوامخواہ ایک گھنٹہ لگ جاتا جبکہ پیدل چل کر میں دس منٹ میں گھر پہنچ گیا ۔ کہنے لگے مگر ہمارے لوگ کسی آفیسر کو پیدل چلتے دیکھ کر حیران و پریشان ہو جاتے ہیں ۔ پاکستانی آفیسرز وہ مخلوق ہے جس کو عوام اب بھی شیر بہادر ہی دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے تم بھی آفیسرز کی طرح آیا جایا کرو تاکہ عوام کا دل نہ ٹوٹے ۔ انکی غلامانہ سوچ پر کاری ضرب لگتی ہے کہ آفیسر اور پیدل جاٸے ۔ ناممکن ۔
میں تو پھر گہری سوچ میں تھا کہ واقعی عوام اب بھی اسی ذہنی پستی کا شکار ہیں کہ انکا ایم پی اے ۔ ایم این اے اور سول یا فوجی آفیسر لینڈ کروزر یا ویگو میں سفر نہ کرے تو انکو اچھا نہیں لگتا اور دوسری طرف *ہم جیسے جھلے آفیسر اپنے گاٶں یا شہر میں پیدل چل کرخوامخواہ اصلی اور نسلی آفیسرز کی عزت کم کرنے پر تلے ہوٸے ہیں* ۔ اللہ ہم جیسے جھلے آفیسرز کو ہدایت دے اور اس قوم کو عقل و شعور ۔
ہمارے شہر نواب شاہ (اب شہید بےنظیرآباد) کو قومی ریلوے پٹری نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا
