لاہور (ویب ڈیسک) کچہ میانوالی میں ہزاروں کنال زمین پر قبضے کے کیس اور متعلقہ افسر کی تبدیلی کی کوششوں پر تحریک اںصاف کی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کا موقف بھی آگیا۔
سینئر کالم نویس جاوید چودھری نے بتایا کہ ” شیریں مزاری سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور کوئی تفتیش بھی ہو رہی ہے لیکن ہمیں ابھی تک نہیں بلایا گیا اور نہ اطلاع دی گئی ہے۔یہ نئی حکومت کا شوشا ہے‘ یہ تفتیش کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں مگر ہمارے پورے علاقے میں کسی کے پاس بھی چالیس ہزار کنال زمین نہیں "۔
سڑک پر یاسر شامی کا لوگوں کے ساتھ انوکھا مذاق
جاوید چودھری نے مزید لکھا کہ "مجھے محسوس ہوتا ہے جس دن اینٹی کرپشن شیریں مزاری اور ان کے خاندان کے لوگوں کو طلب کرے گا، اس دن عمران خان سٹیج پر کھڑے ہو کر یہ ضرور کہیں گے ’’دیکھو پاکستانیو! یہ لوگ شیریں مزاری کے خلاف بھی 51 سال پرانا کیس لے آئے ہیں‘‘ اور لوگ کپتان کی اس بات پر بھی یقین کر لیں گے لہٰذا میری نئی حکومت سے درخواست ہے آپ کم از کم یہ تفتیش ضرور مکمل کرا دیں‘ اس سے پہلے کہ ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت پوری تفتیشی ٹیم کو بھی غائب کر دیا جائے اور ثبوتوں کے صندوق کو بھی”۔
بیٹے سالک حسین نے شہبازشریف کو ووٹ پوچھ کر دیا تھا یا نہیں ؟ چوہدری شجاعت حسین کا اہم بیان سامنے آ گیا
یہ مقدمہ کب شروع ہوا اور ثبوتوں کا صندوق دراصل کس افسر نے کہاں سے برآمد کروایا تھا؟ تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔
