BBC Urdu TV

گولیوں کی گونج، خاموش گھروں کی سسکیاں اور وردیوں کے پیچھے چھپی قربانیوں کی داستان

تحریر: عمران شاہد

گولیوں کی گونج، خاموش گھروں کی سسکیاں اور وردیوں کے پیچھے چھپی قربانیوں کی داستان

کچھ آوازیں لمحوں کے لیے گونجتی ہیں، مگر ان کی بازگشت برسوں تک دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ کچھ گولیاں صرف جسموں کو زخمی نہیں کرتیں، وہ گھروں کی ہنسی، ماؤں کی دعائیں، بچوں کی مسکراہٹیں اور خاندانوں کے سکون کو بھی چھلنی کر جاتی ہیں۔ بعض واقعات صرف خبروں کی سرخی نہیں ہوتے، وہ سینکڑوں دھڑکتے دلوں کی خاموش چیخ بن جاتے ہیں۔ ملک پور، ترنڈہ محمد پناہ کے قریب پیش آنے والا یہ واقعہ بھی محض ایک پولیس مقابلہ نہیں تھا، بلکہ گولیوں کی گونج کے پیچھے چھپی کئی گھروں کی سسکیوں، کئی آنکھوں کے آنسوؤں اور کئی دلوں کے کرب کی ایک ایسی داستان تھا، جسے شاید الفاظ مکمل طور پر بیان نہ کر سکیں۔سی سی ڈی لودھراں کی ایک بروقت، جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارروائی نے جنوبی پنجاب کے ایک ایسے خطرناک جرائم پیشہ نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جس کا نام مدتوں سے خوف، دہشت اور سنگین وارداتوں کی علامت بن چکا تھا۔ ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کی سربراہی، ریجنل آفیسر سی سی ڈی سلیم عباس کلاچی کی نگرانی، ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی لودھراں میاں طاہر اعجاز کی قیادت، ایس ایچ او ملک حبدار حسین، سب انسپکٹر نزاکت اقبال میتلا، سب انسپکٹر مصطفیٰ سیال، غازی زاہد رسول چاچڑ، قصور عباس اور سی سی ڈی لودھراں کی پوری ٹیم نے اس خطرناک مشن کو انجام دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو صرف ایک کارروائی کے لیے نہیں نکلے تھے، بلکہ اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر قانون کی حرمت اور عوام کے تحفظ کے لیے میدان میں اترے تھے۔جب اطلاع ملی کہ پنجاب، سندھ اور اسلام آباد تک وارداتیں کرنے والے خطرناک اور انتہائی مطلوب ڈاکو امین بوکا اور احمد گجر اپنے ساتھیوں سمیت ایک مخصوص مقام پر موجود ہیں تو فوری طور پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ پولیس ٹیمیں تیزی سے حرکت میں آئیں۔ فضا میں ایک عجیب سا تناؤ تھا۔ ہر قدم خطرے سے بھرا ہوا، ہر لمحہ غیر یقینی، ہر سانس کسی بڑے امتحان کا پیش خیمہ تھی۔ پھر اچانک خاموشی کو گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے چیر دیا۔ اندھیروں میں آگ برسانے والی بندوقیں گرج اٹھیں، بارود کی بو فضا میں پھیل گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ منظر وجود میں آ گیا جسے شاید دیکھنے والوں کے لیے بھلانا آسان نہ ہو۔
یہ کوئی فلمی منظر نہیں تھا، نہ کسی کہانی کا مبالغہ، بلکہ حقیقت کا وہ تلخ لمحہ تھا جس میں موت آنکھوں کے سامنے کھڑی تھی۔ ایک طرف قانون کے محافظ تھے، دوسری طرف قانون شکن۔ ایک طرف فرض تھا، دوسری طرف جرم۔ ایک طرف وہ جوان تھے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھے کھڑے تھے، اور دوسری طرف وہ گولیاں تھیں جو کسی بھی لمحے کسی زندگی کا چراغ گل کر سکتی تھیں۔اسی شدید فائرنگ کے دوران ایلیٹ فورس لودھراں کا جوان محمد ساجد گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا، جبکہ خطرناک ڈاکو امین بوکا اور احمد گجر جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گئے۔ محمد ساجد بھی انہی جوانوں میں شامل تھا جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر فرض کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ اس کے جسم سے بہتا خون صرف ایک زخمی اہلکار کی تکلیف نہیں تھا، وہ کسی ماں کے دل پر لگا زخم بھی تھا، کسی باپ کی امید کا امتحان بھی، کسی بیوی کی سانسوں میں ٹھہرا خوف بھی، اور بچوں کے سروں پر منڈلاتا وہ سایہ بھی تھا جسے شاید وہ ابھی سمجھ بھی نہ سکتے ہوں۔شاید میدان میں کھڑے لوگوں کو صرف ایک زخمی جوان دکھائی دیا ہو، مگر حقیقت میں وہ ایک پورے گھر کی دھڑکن تھا۔ اس کے زخمی ہونے کی خبر جب گھر پہنچی ہوگی تو شاید ایک ماں کے لبوں پر دعا کانپ گئی ہوگی، ایک باپ کی آنکھ نم ہو گئی ہوگی، ایک بیوی کی دنیا چند لمحوں کے لیے رک گئی ہوگی، اور بچے شاید دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے یہی سوچ رہے ہوں گے کہ ابو آج بھی واپس آ جائیں گے۔
مگر اس فائرنگ کا ایک اور رخ بھی تھا… ایک ایسا رخ جو شاید سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا تھا۔ ایک بے گناہ راہگیر ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گیا۔ وہ نہ اس مقابلے کا حصہ تھا، نہ اس کے ہاتھ میں بندوق تھی، نہ وہ جرم کی دنیا سے وابستہ تھا۔ وہ شاید اپنی روزمرہ زندگی کے کسی معمولی سفر پر تھا، شاید گھر جا رہا تھا، شاید کسی اپنے سے ملنے نکلا تھا، شاید بچوں کے لیے کچھ لے کر واپس آ رہا تھا… مگر قسمت نے اسے ایک ایسے لمحے میں اس آگ کے بیچ لا کھڑا کیا جہاں زندگی اور موت کے درمیان صرف ایک گولی کا فاصلہ تھا۔
وہ راہگیر بھی کسی کا بیٹا تھا۔ کسی ماں کی آنکھوں کا نور، کسی باپ کے بڑھاپے کا سہارا، کسی بیوی کی زندگی، کسی بچے کے خوابوں کا مرکز۔ مگر ایک گولی نے صرف ایک جسم کو نہیں گرایا، اس نے ایک گھر سے ہنسی چھین لی، ایک خاندان سے سکون چھین لیا، ایک ماں کی نیند چرا لی، ایک بیوی کی دنیا اجاڑ دی، اور معصوم بچوں کے سروں سے سایہ اٹھا لیا۔
خبروں میں یہ سب شاید صرف ایک سطر بن کر رہ جاتا ہے کہ “ایک راہگیر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا”… مگر اس ایک سطر کے پیچھے ایک پورا جہان بکھر جاتا ہے۔ ایک دروازہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے، ایک دسترخوان پر ایک جگہ خالی رہ جاتی ہے، ایک ماں کی دعاؤں میں سسکیاں شامل ہو جاتی ہیں، اور کچھ بچے عمر بھر یہ سوال لیے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کے ابو واپس کیوں نہیں آئے۔یہی وہ درد ہے جو اکثر دکھائی نہیں دیتا۔ لوگ گولیوں کی آواز سن لیتے ہیں، پولیس مقابلے کی خبر پڑھ لیتے ہیں، ملزمان کے انجام پر تبصرے کر لیتے ہیں، مگر ان گھروں کے اندر پھیلی خاموشی، خوف، دعائیں، آنسو اور سسکیاں شاید کسی کو دکھائی نہیں دیتیں۔
ایک پولیس اہلکار جب گھر سے نکلتا ہے تو وہ صرف ڈیوٹی پر نہیں جاتا، وہ اپنے پیچھے ایک پورا جہان چھوڑ کر جاتا ہے۔ ایک ماں دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے، ایک باپ دل ہی دل میں دعائیں مانگتا ہے، ایک بیوی ہر آہٹ پر چونک جاتی ہے، اور بچے معصومیت سے سمجھتے ہیں کہ ابو شام کو واپس آ جائیں گے۔ مگر میدان میں کھڑا وہ جوان جانتا ہے کہ اگلا لمحہ اس کے لیے کیا لکھ کر لائے گا، کوئی نہیں جانتا۔آج سوشل میڈیا اور بند کمروں میں بیٹھ کر تنقید کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ چند لمحوں کی ویڈیوز، آدھی ادھوری معلومات اور جذباتی تبصروں کی بنیاد پر فیصلے سنا دیے جاتے ہیں۔ لوگ طنز کرتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں، مگر شاید بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ گولیوں کے سائے میں کھڑا وہ جوان کن خطرات، کن خوفناک لمحوں اور کن غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہوتا ہے۔ بارود کی بو میں سانس لینا، موت کو آنکھوں میں دیکھ کر فرض نبھانا، اور پھر بھی اپنے قدموں کو ڈگمگانے نہ دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ملک پور، ترنڈہ محمد پناہ کا یہ واقعہ صرف ایک پولیس مقابلہ نہیں تھا۔ یہ ان وردیوں کی کہانی تھی جو میدان میں ڈٹی رہیں۔ یہ زخمی محمد ساجد کے حوصلے کی داستان تھی۔ یہ اس بے گناہ راہگیر کے گھر کے اجڑنے کی دردناک تصویر تھی۔ یہ ان ماؤں کی دعاؤں، ان بیویوں کی بے چینی، ان بچوں کے انتظار، اور ان گھروں کی خاموش سسکیوں کی کہانی تھی جو شاید اب کبھی پہلے جیسے نہ ہو سکیں۔
معاشرے کا امن صرف قانون کی کتابوں سے قائم نہیں رہتا، بلکہ ان جوانوں کی جرات، ان کے زخموں، ان کے خاندانوں کی دعاؤں، ان کے گھروں کے خاموش انتظار، اور بعض اوقات بے گناہ شہریوں کی قربانیوں سے بھی قائم رہتا ہے۔ تنقید ضرور کریں، سوال بھی اٹھائیں، مگر ان وردیوں کے پیچھے کھڑے خاندانوں کو بھی یاد رکھیں اور ان بے گناہ لوگوں کو بھی نہ بھولیں جو کبھی کبھی ایسے واقعات کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کرتے ہیں۔
کیونکہ گولیوں کی آواز چند لمحوں میں خاموش ہو جاتی ہے… مگر ان کی بازگشت بعض گھروں میں عمر بھر سنائی دیتی رہتی ہے۔

Exit mobile version