BBC Urdu TV

*کے ایم سی میں “انتظامی بہتری” یا قانون سے کھلواڑ؟*

*کے ایم سی میں “انتظامی بہتری” یا قانون سے کھلواڑ؟*

تحریر:محمد کامران زہری بیورو چیف فائیو نیوز

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا یہ حکم نامہ بظاہر کام کو “مؤثر اور ہموار” بنانے کے لیے ہے، مگر کاغذ کے نیچے چھپی کہانی کچھ اور ہی بتا رہی ہے۔

*ایک ہی افسر کو اضافی چارج پر اضافی عہدہ، پھر اسی دائرے میں ایک نئی پوسٹ کی تخلیق، وہ بھی صرف تین ماہ کے لیے۔ سوال یہ نہیں کہ افسر اہل ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا قانون اس طرح عارضی بنیادوں پر پوسٹوں کی ری ڈیزگنیشن اور نئی تخلیق کی اجازت دیتا ہے؟*

پروجیکٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ کو اچانک “سینئر ڈائریکٹر” میں بدل دینا، پھر اسی کے ماتحت ایک اور ڈائریکٹر کی نئی کرسی رکھ دینا، یہ انتظامی ضرورت کم اور ایڈجسٹمنٹ اسکیم زیادہ لگتی ہے۔

اگر واقعی کام کی رفتار مسئلہ تھی تو باقاعدہ قواعد، اسٹرکچر اور سروس رولز کے تحت مستقل تقرری کیوں نہیں کی گئی؟

سب سے دلچسپ جملہ آخر میں ہے:
“تمام ریکارڈ محفوظ کیا جائے تاکہ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔”

*یہ جملہ خود اعتراف جرم نہیں تو اور کیا ہے؟*

یعنی اندیشہ پہلے سے موجود ہے کہ یہاں کچھ ایسا ہے جس پر انگلی اٹھ سکتی ہے۔

یہ وہی کے ایم سی ہے جہاں قواعد ضرورت کے مطابق موم کی طرح موڑ لیے جاتے ہیں

اضافی چارج کو مستقل طاقت بنا دیا جاتا ہے

اور احتساب فائل کے آخری صفحے تک ہی محدود رہتا ہے

اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو پھر تین ماہ، اضافی چارج، نئی پوسٹ، اور ریکارڈ “محفوظ” رکھنے کی ہدایت کیوں؟

اور اگر قانون سے ہٹ کر ہے تو سوال صرف ایک ہے:
*کیا میئر کی منظوری قانون کی جگہ لے سکتی ہے؟*

*کراچی کو منصوبوں کی نہیں، قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے۔*

ورنہ ہر نیا نوٹیفکیشن ایک نئی کہانی اور ہر کہانی ایک نئی تفتیش کو جنم دیتی رہے گی۔

*اور ہاں، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔*

بلدیہ عظمیٰ کراچی کا سافٹ ویئر جلد اپڈیٹ ہونے جا رہا ہے۔ تکنیکی ماہرین نے سسٹم میں موجود وائرس کی نشاندہی کر لی ہے۔ بس اب پوری ٹیم کو اُس نئے انجینئر صاحب کی آمد کا بے چینی سے انتظار ہے جو اگلے ماہ کے آغاز میں شاہراہِ فیصل پر قائم مرکزی “سافٹ ویئر اپڈیٹ ہاؤس” تشریف لا رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ یہی انجینئر صاحب اس وائرس کا اینٹی وائرس ہوں گے۔
تب تک سسٹم سلو ہے، فائلیں ہینگ ہیں، اور کچھ کمانڈز صرف مخصوص یوزرز پر ہی کام کر رہی ہیں۔

*تب تک سسٹم کی مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔*

*وضاحت ضروری ہے کہ سسٹم مصلحتاً سلو ضرور رکھا گیا ہے، مگر فائلیں ہینگ نہیں ہوئیں۔*

کچھ پراسیس جان بوجھ کر تاخیر کا شکار ہیں تاکہ مخصوص فائلوں پر نظر رکھی جا سکے اور غیر ضروری ایکسس سے بچاؤ ممکن ہو۔

*یعنی سنت خداوندی کے تحت رسی ڈھیلی ضرور چھوڑی گئی ہے اور بوقت ضرورت انشاءاللہ کھینچی جانے والی ہے۔*

شکریہ!
*سسٹم کے اپڈیٹ ہوتے ہی ہمارا نمائندہ جلد رابطہ کرکے آگاہ کرے گا*

تب تک کیلئے اجازت دیجئے
*پاکستان زندہ باد*

Exit mobile version