بارشوں کی بندش اور وباؤں کا پھیلاؤ ہمارے گناہوں کی شامت ہے۔ حافظ عبدالحمید عامر
مصنوعی بارشوں والے سسٹم کی بجائے من حیث القوم توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔
جہلم (محمد زاہد خورشید ) بارشوں کی بندش اور وباؤں کا پھیلاؤ ہمارے گناہوں کی شامت ہے، ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے جوبلی گھاٹ جہلم میں نماز استسقا کی ادائیگی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے مزید کہا کہ جب سے بارشوں کا سلسلہ رکا ہے تو اس کے سبب کئی ایک بیماریاں جنم لے رہی ہیں، وباؤں کے پھیلاؤ سے لوگ پریشان حال ہیں، لیکن سوچنے والی بات ہے کہ وباؤں کے پھیلاؤ کا اصل سبب کیا ہے؟ قرآن مجید میں اس کا بڑا واضح جواب موجود ہے کہ بر و بحر میں انسانوں کو جو بھی مصائب و پریشانیوں کا سامنا ہے، وہ ان کے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے، تاکہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ سموگ کو ختم کرنے کے لیے مصنوعی بارشوں کا سسٹم ملک بھر میں شروع کیا جائے، اس سے کہیں بہتر اور نافع و مفید بات یہ ہے کہ من حیث القوم ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیں۔ گناہوں کی صدق دل سے معافی مانگ کر رب کریم کو راضی کر لیں، جب مسلمان معاشرے اپنی غلطیوں و کوتاہیوں کا اعتراف کرکے سچی و پکی توبہ کر لیں گے تو لازمی طور پر ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی برکھا برسے گی۔امن و سلامتی کا ہر طرف دور دورہ ہو گا اور مسلمانوں کا پھر سے عہد زریں شروع ہو جائے گا۔ جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا سیف اللہ اثری نے بڑے خشوع و خضوع اور آہ و زاری کے ساتھ دُعا مانگی اور نماز استسقا کی امامت کروائی۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے اس میں شرکت کی۔
