برگیڈیربشیرآراٸیں
کیا میں قوم کا محافظ ہوں
میں نمبر 3431xyz سپاہی عابد علی خاصخیلی ہوں . مجھے 15 سندھ رجمنٹ سے 1997 میں ڈیوٹی کے دوران ایک ٹانگ کٹ جانے پر 18 سالہ فوجی نوکری کے بعد 1998 میں ریٹاٸر کردیا گیا ۔ کشمیر لیپا سیاچن اور کوٸٹہ کی ساری یادیں ایک گٹھڑی میں لپیٹ کر ٹنڈوآدم سے سانگھڑ جانے والے روڈ پر گھنڈن بس اسٹینڈ سے ایک فرلانگ دور ایک نہر ڈمشاخ کے ساتھ ایک جاننے والے کی زمین پر ایک پرانی بنی جھونپڑی کے ارد گرد کانٹوں والی باڑ لگا کر چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ رہنے لگا ۔ 11230 روپے پینشن ملنا شروع ہوٸی ۔ بیٹیوں کو بکریاں چرانے پر لگایا تو گھر چلنے لگا ۔ بیساکھی کے سہارے دور بیٹھ کر بیٹیوں کو بکریاں چرانے کی ہمت بڑھاتا رہتا کیونکہ وہ جھاڑیوں میں جانے سے ڈرتی تھیں۔
سردیوں میں چاروں بکریاں بھی جھونپڑی کے اندر باندھنی پڑتی تھیں ۔ گندی رہاٸش ۔ نہر کا مٹیالا پانی پینے اور بستروں میں بکریوں کی بکھری مینگنیوں نے بیوی کو ٹی بی کا مرض لگا دیا ۔
شاید میری قوم کو یہ نہیں پتہ کہ ریٹاٸرڈ سپاہی کی بیوی کا علاج کسی سی ایم ایچ میں نہیں ہوسکتا ۔ چلو اگر اجازت ہوتی بھی تو میں کسی سی ایم ایچ تک پہنچتا کیسے ۔ بیوی کھانستے کھانستے خون تھوکنے لگی اور چھ مہینے میں ہی مر گٸی۔
بچیوں کی ماں نہ رہی تو میں نے پریشانی سے بچنے کیلٸے چاروں بکریاں بیچ کر تینوں بیٹیوں کے نکاح اسی سال غریب سے مزدور لڑکوں کے ساتھ کردٸیے ۔
چوتھی اور سب سے چھوٹی بیٹی نے گھر سنبھالنا شروع کیا تو وہ بھی ہر وقت کھانسنے لگی ۔ پھر فوجی فاٶنڈیشن ہاسپیٹل کے ڈاکٹر نے ہمارے سر پر ایک اور بم پھاڑا کہ اس چھوٹی بیٹی کو بھی ٹی بی ہے ۔ مجھے پہلے ہی شوگر ہوگٸی تھی ۔ کٹی ٹانگ میں زخم ہونے لگے ۔ تین سال پہلے مسانے میں تکلیف ہوٸی تو پیشاب بھی بند ہوگیا فوجی فاٶنڈیشن ہاسپیٹل کے ڈاکٹر نے مستقل پیشاب والی نالی لگادی جو اب جلن کی وجہ سےخوب تکلیف دیتی ہے ۔
27 سال بعد اب بڑھتے بڑھتے پینشن 22000 روپے ہوگٸی ہے جو میری اور میری بیٹی کی بیماری کی دواٸیوں میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اکلوتا چھوٹا بیٹا نزدیک ہی ایک گوٹھ والے مالک کی بکریاں چراتا ہے ۔ کچھ پیسے اور دودھ وہاں سے مل جاتا ہے تو گزر ہورہی ہے ۔ بس بیٹی دھوپ میں بیٹھی لکڑیاں جلا کر دال روٹی پکاتی ہے تو دھواں ہونے پر بہت کھانستی ہے ۔ کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ رات کو اندھیرے میں کٸی دفعہ خود گرا تو پرانی بیساکھیاں بھی ٹوٹ گٸی ہیں ۔ نٸی لینے کو پیسے نہیں بچا پا رہا ۔
آج کسی کے بتانے پر برگیڈیر بشیر آراٸیں کراچی سے اپنی بیگم کے ساتھ ہماری جھونپڑی میں آ پہنچے اور پوچھنے لگے کہ بتا کیا مدد چاہیے ۔
بہت سوچ سمجھ کر دو بکریاں مانگیں کہ کچھ دودھ بیچیں گے کچھ خود استعمال کر لیں گے ۔ برگیڈیٸر نے تو فوراََ ہاں کردی کہ دو دن میں بکریاں لے دیتے ہیں اور دوا کے الگ پیسے دیں گے ۔ اب میں دل میں پچھتانے لگا ہوں کہ کچھ اور مانگنا چاہیے تھا ۔
پھر کچھ اور تو نہیں مانگا مگر کہا سر میں نے اپنی جوانی کے 18 سال ملک و قوم کی سرحدوں کی حفاظت میں گزار دٸیے ۔ اپنی ٹانگ گنوا دی اور اب اس قربانی کے بعد بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہوں ۔
سر سچ بتاٸیں پاکستان کو میں نے لوٹا ہے یا پاکستان نے میری جوانی ۔ میری صحت ۔ میری خوشیاں ۔ میری بیوی اور بیٹی کی صحت لوٹی ہے۔ میں تو پاکستان کا محافظ تھا اور اسکے باوجود ایک جھاڑیوں اور تنکوں سے بنی جھونپڑی میں پچھلے 25 سال سے رہ رہا ہوں ۔ اب تو تین سال سے پیشاب کی نالی لگاٸے بیساکھیوں کے سہارے اس لیے زندہ ہوں کہ مر گیا تو اس ٹی بی کی مریضہ جوان بیٹی کا کیا بنے گا ۔
سر اگر پاکستانی فوج کے سپہ سالار تک میری روداد نہیں پہنچ سکتی تو میری رجمنٹ 15 سندھ کے کمانڈر کو ہی بتا دیں کہ میرے فوج میں گزرے 18 سالوں کے صدقے اور بدلے مجھے کسی سڑک کے کنارے ایک پکا کمرہ ہی بنوا دیں تاکہ بیمار بیٹی کو جگھی سے تو نکال سکوں۔
نوٹ کرنے کی بات
(قوم کے اصل محافظوں کی ایسی سینکڑوں کہانیاں سننے والا اب اس ملک میں کوٸی نہیں کیونکہ اپنی جوانیاں لٹانے والے یہ سب محافظ بھی اب یوٹیوبرز اور نام نہاد میڈیا آٸیکونز کے الزامات کی زد سے چورا چور ہیں اور قوم انکے جھوٹے بیانٸے کو سن سن کر یقین کر بیٹھی ہے ۔ دوسری طرف ایسے گمنام سپاہی خاموشی سے اپنے رب سے کسی بہتری کی امید لگاٸے بیٹھے ہیں) ۔
برگیڈیربشیرآراٸیں
