BBC Urdu TV

کوئی جاکر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ کیسے کیسےجج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں۔جسٹس محسن اختر

کوئی جاکر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ کیسے کیسےجج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں۔جسٹس محسن اختر

ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ کیسے ہوا۔جسٹس محسن اختر کیانی کا سوال

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم کی اپیل پر دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا یہ کون سے جج صاحب تھے جنہوں نے ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ سنا دیا۔ وکیل نے بتایا کہ جج افضل مجوکہ نے کیس کا فیصلہ کیا، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا بار سےکوئی جاکرچیف جسٹس کونہیں بتاتاکہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں؟ ایسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے جو بغیر گواہوں کے فیصلہ کردیتے ہیں، ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ پراسیکیوٹرز کی تو ٹریننگ کرائیں۔ان کا کہنا تھا وکیل کے مطابق جج صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فیصلہ کردیا، قتل جیسے مقدمہ میں کوئی جج اس طرح جلدبازی کرے گا تو ظلم ہوگا، ممبر انسپکشن ٹیم کوکہتا ہوں،ججز کی بھی تھوڑی ٹریننگ کرائیں،غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

Exit mobile version