کلب فُٹ پیدائشی ٹیڑھے پاؤں والے بچوں کے موثر علاج کیلئے اہم اجلاس کا انعقاد۔
بچوں کے اس موذی پیدائشی نقص کی روک تھام اور علاج کیلئے خیبر پختونخوا میں اسٹیک ہولڈرز یکجا و متحد۔
پشاور(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق خیبر پختونخوا میں کلب فُٹ (پیدائشی ٹیڑھے پاؤں والے) بچوں کے علاج کا نظام بہتر بنانے کیلئے تیسرا صوبائی کلب فُٹ اسٹیک ہولڈرز اجلاس پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اس کا بنیادی مقصد کلب فٹ بچوں کے علاج کو صوبائی نظامِ صحت کا مستقل اور باقاعدہ حصہ بنانا ہے تاکہ ہر بچے کو مساوی اور بروقت سہولیات میسر آ سکیں۔ اجلاس میں طبی ماہرین، سرکاری حکام، غیر سرکاری تنظیموں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے علاؤہ آزاد کشمیر، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں قائم علاقائی کلب فٹ کلینکس کے نمائندگان اور نیپال سے ماہرین امراضِ اطفال پرکاش کمار یادیو اور پال بہادر پون نے بطور خاص شرکت کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا میں بچوں کے اس پیدائشی مرض کے علاج، تشخیص اور ریسرچ کو صوبائی صحت کے نظام میں مؤثر طریقے سے شامل کرنا اور پائیدار اقدامات کو فروغ دینا تھا۔ اس کا اہتمام پیراپلیجک سنٹر پشاور اور عالمی تنظیم میراکل فیٹ کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ یہ ایک روزہ اجلاس دو اہم سیشنز پر مشتمل تھا۔ صبح کے سیشن میں کلینکل کوآرڈینیٹرز، میراکل فیٹ کے معاون کلینکس کے نمائندگان اور متعلقہ ماہرین نے شرکت کی۔ اس سیشن میں علاج کے معیار، مسائل، تربیتی ضروریات اور ڈیجیٹل سہولیات جیسے انگیج آل اور لنک آل ایپلی کیشنز کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروگرام کے مالی امور، تنخواہوں اور اگلے مالی سال کی بجٹ تجاویز بھی اتفاق رائے سے ترتیب دی گئیں۔ دوپہر کے سیشن میں مختلف سرکاری اداروں، بین الاقوامی این جی اوز اور مالیاتی و ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ سیشن کے دوران میراکل فیٹ کی جانب سے پاکستان میں کلب فُٹ پروگرام کے اثرات اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی جبکہ کلب فٹ پروگرام کے ڈائریکٹر اور پیراپلیجک سنٹر پشاور کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس نے صوبائی سطح پر پروگرام کی کامیابیوں اور درپیش چیلنجز کا خاکہ پیش کیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے صحت کا نظام زیادہ فعال بنانے کیلئے ان خدمات کو طبی نظام کا لازمی حصہ بنانے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضروری فیصلے کئے گئے۔ پیراپلیجک سنٹر پشاور کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر الیاس سید کا اس موقع پر کہنا تھا کہ "یہ محض صحت عامہ سے متعلق غیر معمولی اجلاس نہیں بلکہ ایک پختہ عزم کا اعادہ ہے جو ہمیں ایک ایسے مستقبل کی طرف لے جا رہا ہے جس میں خیبر پختونخوا کا کوئی بچہ قابل علاج معذوری کے ساتھ نہ رہے”۔ میراکل فیٹ کے پروگرام فیلڈ آفیسر برائے جنوبی ایشیا فیصل امتیاز نے اس بات پر اظہار اطمینان کیا کہ پاکستان نے کلب فُٹ علاج میں شاندار پیش رفت کی ہے اور خیبر پختونخوا اس میدان میں ایک مثالی کردار ادا کر رہا ہے جس کا کریڈٹ پیراپلیجک سنٹر اور بالخصوص اس کے سربراہ کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ان خدمات کو صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے سرکاری نظام کا مستقل حصہ بنایا جائے تاکہ بچوں کی پائیدار صحت یقینی بنائی جا سکے۔ پیراپلیجک سنٹر پشاور کے ڈائریکٹر ریہیب اور پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عامر زیب نے بتایا کہ اس تفصیلی اجلاس میں ہم نے کلب فٹ سمیت بچوں کے علاج، عملہ کی تربیت اور عوامی رسائی جیسے اہم پہلوؤں پر اتفاقِ رائے سے آئندہ کے اہداف طے کئے ہیں جو خوش آئند بات ہے۔ اجلاس کے شرکاء اور مندوبین کا کہنا تھا کہ کلب فُٹ ایک پیدائشی مگر مکمل طور پر قابلِ علاج بیماری ہے جس کے بروقت اور درست علاج سے بچے پیدائشی نقائص سے پاک خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔
