کشکول توڑنے کی باتیں جھوٹ و فریب پر مبنی ہیں:انجینئر ندیم ممتا زقریشی
آئندہ مالی سال میں حکومتی قرض 10ہزار 433ارب بڑھنے کا تخمینہ ہے:چیئرمین
ملک کی 39.5فیصد آبادی خطہ غربت سے نیچے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے:گفتگو
حکمران طبقہ کی ناقص حکمت عملیوں اور ناکام پالیسیوں کی وجہ ملکی حالات مزید خراب ہو
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ کشکول توڑنے کی باتیں جھوٹ و فریب پر مبنی ہیں،قرض پر قرض لینے والی حکومت قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دے،آئندہ مالی سال میں حکومتی قرض 10ہزار 433ارب روپے اضافے کا تخمینہ ہے جس کے بعد حکومتی قرض 87ہزار 346ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ غیر ملکی قرض میں 2ہزار 797ارب روپے اضافے کا امکان ہے،دوسری جانب حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کثیر جہتی غریب ہے جسے صحت،تعلیم اور معیار زندگی سے محرومی کا سامنا ہے ایسے میں حکومت کی طرف سے ترقی و خوشحالی کی باتیں سمجھ سے بالاترہیں کہ وہ کسی طرح عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل و پریشانیوں پر قابو پائیں گے،ملک اور قوم کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ برآمدات کو بڑھاتے ہوئے کاروبار کے ذرائع بڑھانے ہوں گے تاکہ بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو۔ان خیالات کا اظہار قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور قوم کو درپیش مسائل کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ کی ناقص حکمت عملیوں اور ناکام پالیسیوں کی بدولت آج ملکی حالات اس نہج تک پہنچے ہوئے ہیں کہ دور دور تک اچھائی اور بھلائی دکھائی نہیں دے رہی اگر یہ لوگ اپنی بھری ہوئی تجوریوں کو مزید بھرنے کی بجائے عوامی اور ملکی مسائل کے حل پر توجہ دیتے توصورتحال اس قدر پریشان کن نہ ہوتی۔
