BBC Urdu TV

کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، شہہ رگ کٹنے کی صورت میں کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا اور کشمیر

*کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، شہہ رگ کٹنے کی صورت میں کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا اور کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ کنوینر آل پارٹیز حریت کانفرنس جموں و کشمیر غلام محمد صفی*

*کشمیر میں بھارتی حکومت کا کشمیر کو نوآبادی بنانے کا حربہ عوام کو بے زمین، بے روزگار اور بے گھر کرنا ہے تاکہ وہ بھارتی تسلط کے سامنے سر تسلیم خم کرسکیں۔ سینئر لیڈر آل پارٹیز حریت کانفرنس جموں و کشمیر الطاف حسین وانی*

*کشمیر کا مسئلہ زمین یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ دس ملین لوگوں کو مسئلہ ہے، ان کے حقوق، حق خودارادیت اور آزادی کا مسئلہ ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) کنوینر آل پارٹیز حریت کانفرنس جموں و کشمیر غلام محمد صفی نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔ انسان آنکھوں کے بغیر اور معذوری کی حالت میں بھی زندہ رہ سکتا ہے لیکن شہہ رگ کٹنے کی صورت میں کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا اور کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ پارٹیشن پلان کے تحت اگرچہ مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان بننا تھا اور غیرمسلم اکثریتی علاقوں کو ہندوستان بننا چاہیئے تھا لیکن ایسا نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ ہندو اور انگریز قائد اعظم کے دو قومی نظریے کے فلسفہ کو مات دینا چاہتے تھے اور اس کے برعکس وہ یہ باآور کرانا چاہتے تھے کہ مسلم اکثریتی والا یہ علاقہ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے اور دو قومی نظریہ کی نفی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ انیس سو سینتالیس عیسوی سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر پر پانچ لاکھ سے زائد لوگ شہید ہوچکے ہیں لیکن یہ مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا جس کی وجہ ہندوستان کی ہٹ دھرمی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک سے جتنی بھی تجاویز آئیں اسے ہندوستان ماننے کو تیار نہیں اور وہ کہتا ہے کہ میرا قبضہ ہے بس اتنا کافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان:”نوآبادیاتی نظام کے اثرات: کشمیر کی شناخت اور علاقائی تنازعہ“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ غلام محمد صفی نے مزید کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہئے لیکن مسئلہ کشمیر کے اب تک حل نہ ہونے کی ایک وجہ پاکستان کی پالیسیوں میں تسلسل کا نہ ہونا بھی ہے جبکہ ہندوستان کی پالیسیوں میں تسلسل ہے، ہندوستان غلط بیانی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میرا اٹوٹ انگ ہے لیکن شروع سے لے کر اب تک ایک ہی بیانیہ پر قائم ہے ان کا صدر، وزیر اعظم جب بھی بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اور غلط پر جمے ہوئے ہیں جبکہ ہمارا بالکل واضح اور صحیح موقف کہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق فیصلہ کیا جائے، اگر وہ رائے شماری میں پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہماری سر آنکھوں پر۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ سنہ انیس سو نواسی عیسوی کے بعد ہم نے ہندوستان کو ٹف ٹائم دینا شروع کردیا، سیاسی، سفارتی اور عسکری محاذ پر جس کیلئے وہ پاکستان کو مورد الزام ٹہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے پاکستان ہے۔ہماری جدوجہد حق خودارادیت کی جدوجہد ہے جبکہ ہندوستان جموں و کشمیر میں قبرستان جیسی خاموشی چاہتا ہے۔ انہوں نے طلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح لوگ فلسطین کیلئے نکلتے ہیں اور فلسطینیوں کی حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، اسی طرح دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی انصاف پسند افراد موجود ہیں وہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کریں، یہ ان پر فرض بھی اور ان کے اوپر ایک قرض بھی ہے۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ ہندوستان کا طریقہ واردات جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو قتل، خواتین کو بے آبرو کرنا اور لوگوں کو کشمیر سے دھکے دے کر باہر نکالنا ہے، انہیں ہجرت پر مجبور کرنا اور ان کی زمینوں کو اسی طرح چھیننا ہے جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں کو چھینا اور انہیں بے گھر اور دربدر کردیا۔ ہندوستان کا مقصد جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو نہیں بلکہ ہندؤں اور اُردو کی جگہ ہندی دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ کشمیر میں پاکستان کا نہیں بلکہ ہندوستان کا پرچم دیکھنا چاہتے ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سینئر لیڈر الطاف حسین وانی نے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت کشمیر میں بھارتی حکومت کا کشمیر کو نوآبادی بنانے کا حربہ عوام کو بے زمین، بے روزگار اور بے گھر کرنا ہے تاکہ وہ بھارتی تسلط کے سامنے سر تسلیم خم کرسکیں۔ جب پاکستان میں سی پیک کا آغاز ہوا تو یہ ابھی شروع ہونا باقی تھا لیکن ہندوستان اور مختلف یونیورسٹیوں میں انہوں نے سی پیک پر پی ایچ ڈی شروع کی تاکہ مغرب کو یہ تصور دیا جاسکے کہ یہ سب آپ کے خلاف ہے اور یہ اقتصادی راہداری امریکی اور مغربی مفادات کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہ ہر پاکستانی اور ماہر تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی فالٹ لائنز پر سوچیں اور ایک فالٹ لائن کشمیر ہے اور کشمیر کے حقیقی سبب پر پاکستان کی ہر جامعہ میں بحث ہونی چاہئے اور اس پر لکھنا چاہئے اور ان کا کشمیر پر ریسرچ سینٹر ہونا چاہئے۔ الطاف حسین وانی نے مزید کہا کہ کشمیر میں ہونے والے حالیہ الیکشن کو ہم تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ الیکشن دس لاکھ فوج کی موجودگی میں بندوق کے سائے میں لڑے گئے۔ بھارت نے پانچ اگست سنہ دو ہزار انیس عیسوی کو قلم کے ایک جھٹکے سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور کشمیری عوام کو انکی شناخت سے محروم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور بھارت بھی یہ جانتا ہے کہ کشمیر میں جدوجہد جاری رہے گی۔ انکی تمام فوجی طاقت کشمیر میں جدوجہد آزادی کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور ہندوستان نے جھوٹ کا ایک پورا مجموعہ پھیلایا ہوا ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ زمین یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ دس ملین لوگوں کا مسئلہ ہے، انکے حقوق، حق خودارادیت اور آزادی کا مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے بین الاقوامی اسٹینڈرز نظر نہیں آتے۔ ہمیں نتائج کی پرواہ کئے بغیر حق کیلئے آواز اٹھانی چاہئے، میں کشمیری ماؤں کو سلام پیش کرتا ہوں جو آزادی کے حصول کیلئے اپنے جگر کے ٹکڑوں کے نذارنے پیش کرتے کرتے نہیں تھکتی۔ اپنی اولاد کی جان کے نذرانے پیش کرنا آسان کام نہیں لیکن کشمیری مائیں اس پر فخر کرتی ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ بھارت نے کشمیرپر جو مظالم ڈھائے ہوئے ہیں وہ انسانیت کیلئے شرمندگی ہے، کشمیر کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو جموں و کشمیر کی تاریخ اور اسکی پاکستان کیلئے اسٹرٹیجک اہمیت کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}
Exit mobile version