عنوان: "مٹی کی پکار”
کرونا ایک بیماری یا عالمی سازش
کرونا کی آڑ میں یہودی زائینسٹوں نے دنیا میں بہت بڑے بحران کو جنم دیا ہے جس کی وجہ سے دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ دنیا کی معیشت کو جس عیاری کے ساتھ تباہ کیا جارہا ہے وہ اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں دنیا میں بڑی جنگیں لڑی جانے والی ہیں کیونکہ دنیا میں جب بھی بڑے بحران آتے ہیں بڑی طاقتیں اپنی طاقت کے بل پر کمزور ممالک کے وسائل پر قبضے کرتی ہیں اور ان کو اپنی کالونیز میں تبدیل کرلیتی ہیں، وساٗئل پر قبضہ کرنے کے لئے عوام پر اپنا پٹھو مسلط کرکے اس قوم کو اپنا غلام بنایا جاتا ہے، اس وقت یہودی زائینسٹ اپنے مسیحا کے لئے میدان ہموار کر رہے ہیں تاکہ اس کی پوری دنیا پر حکمرانی قائم ہوسکے، اب پھر دنیا میں وہی حالات بنتے جارہے ہیں پھر بڑی طاقتیں کمزور ممالک کے وسائل پر قبضے کریں گی۔ تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور کرپشن جیسے ناسور نے پہلے ہی ان ممالک کی جڑیں کھوکھلی کی ہوئی ہوتی ہیں اس لئے عالمی سامراجی قوتوں کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑتی ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم عواق پر قبضے کی صورت میں دیکھ چکے ہیں کافی عرصے سے پاکستان کو بھی چیک کیا جارہا ہے کبھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرواکر، کبھی PIA کے جہاز کو روک لیا جاتا ہے، کبھی اسکے ہوٹل ضبط کر لئے جاتے ہیں، تو کبھی ریکوڈک پر جرمانہ عائد کردیا جاتا ہے، کبھی بھارت کی پشت پناہی کی جاتی ہے اور اس گیڈر کو علاقے کا لیڈر بنانے کا لالچ دیکر پاکستان سے لڑوادیا جاتا ہے تو کبھی افغانستان کی جانب سے ڈیوڈنڈ لائن کا ایشو کھڑا کیا جاتا ہے ، ملک میں سیاسی افراتفری پھیلانے کے لئے کبھی مولانا فضل الرحمان کو وزیر اعظم کا لالچ دیکر اس سے کام لیا جاتا ہے تو کبھی نواز یا زرداری، غرض بساط مکمل بچھی ہوئی ہے جس دن پاکستان نے کمزوری دیکھائی یا افواج کا حوصلہ زرا بھی پست ہوا 1971 جیسا واقعہ دوبارہ کرنے کے لئے عوامل تیار ہیں۔
لیکن اتنے برے حالات میں فوج بھی اپنی زمہ داریوں سے غافل نہیں نہیں ہے ایک طرف وہ گالیاں کھارہے ہیں کہ ملک کا 85% بجٹ آرمی کھا جاتی ہے جبکہ اسکے برعکس اصل حقیقت یہ ہے کہ جو ضیاالحق شہید کے بعد سے جو لوٹ کھسوٹ سیاسی جماعتوں نے کی ہے اس کی وجہ سے ملک پر اتنا قرض چڑھ چکا ہے کہ ملک کی کل GDP کا 65% قرض اور اسکے سود کی ادائیگی کی مد میں چلا جاتا ہے اسکے بعد جو ملک کی کل آمدن کا 35% بچتا ہے اس میں سے بھی صرف 12% سے ٓآرمی اپنے اخراجات پورے کرتی ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ اپنے سے چھ گنا قوت کے خلاف ہر لمحہ تیار رہنا ہے اور جدید ہتھیاروں سے خود کو مسلح بھی رکھنا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی افواج نے جو کامیابیاں حاصل کیں ہیں ہم ان پر مرحلہ وار روشنی ڈالیں گے تاکہ عوام کو بھی پتا چلے کہ کون کام کر رہا ہے اور کون انہیں بے وقوف بنا رہا ہے آج کا آٹیکل اس سلسلے کا پہلا آرٹیکل ہے ، اب آپ کو ایک ایک کامیابی کے بارے میں تفصیل کے ساتھ آگاہ کریں گے۔ تاکہ عوام کو بھی اصل سچ سے آگاہی ہو اور ان کو اس پروپاگنڈے سے آزادی دے جاسکے جو صبح شام اقتدار کے بھوکے بیرونی آقاوں کے غلام سیاستدان ان کو سناتے رہتے ہیں اور جو کچھ ان کو انکے زر خرید صحافی سناتے رہتے ہیں۔
کالم نگار : محمد فہیم اکبر خان
کراچی
381faheem@gmail.com
