BBC Urdu TV

کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار اور ممبر کراچی پریس کلب و ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ جاوید صدیقی

*سالانہ رپورٹ، جرائم اور تحفظات*

کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار اور ممبر کراچی پریس کلب و ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ جاوید صدیقی سے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے خیالات و مطالبات کا آزادانہ اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سول و پیرا ملٹری افسران گریڈ سترہ تا بائیس کا سالانہ فنانس / آڈٹ رپورٹ عوامی سطح پر جاری کرنا چاہئیں تاکہ تنخواہ و مراعات کے نصاب سے بچت اور املاک کا درست موازنہ عوام بھی کرسکیں کیونکہ پاکستانی عوام ہر ٹیکس ادا کرتی ھے جو قومی خذانہ میں جمع کیا جاتا ھے جبکہ پارلیمنٹیرین و سیاستدان کی بھی سالانہ بنیاد پر فنانس / آڈٹ رپورٹ جاری کی جانی چاہئیں تاکہ انکے بھی بڑھتے ہوئے کاروبار اور املاک کی حقیقت سامنے آسکیں۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے بتایا کہ عوام کا یہ بھی مطالبہ ھے کہ سرکاری و نیم سرکاری اداروں اور انکے افسران کی مراعات میں وافر مقدار میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو جینے کیلئے سکھ کا سانس مل سکے اور ٹیکس میں کمی لازمی کی جائے۔ عوام کا کہنا ھے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو حقیقی بنیاد پر جمہوری ملک بنایا جائے اور آئین پاکستان و دستور پاکستان کو مکمل طور پر قرآنی قوانین کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ پاکستان امن و سلامتی اور خوشحالی کی جانب تیزی سے رواں دواں ہوسکے اور مکمل ملک و قوم اور ریاست کو سود فری یعنی سود سے پاک ملک بنایا جائے۔ دوسری طرف ملک بھر کے عوام بلخصوص کراچی کے مکینوں نے ریاستی اداروں اور سول سروینٹس کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ھے، عوام کے مطابق سول و پیرا ملٹری ادارے عوام کو تحفظ بہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی سے عوامی حلقوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس جو مکمل صوبائی حکومت کے تابع کام کررھا ہوتا ھے جس کی کارکردگی کے براہ راست ذمہداران میں وزیراعلیٰ اور آئی جی ہوتے ہیں جبکہ پیرا ملٹری فورسس جو وزرات داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہیں ان میں رینجرز ، ایف سی، کوسٹ گارڈ، اینٹی نارکوٹیسٹ و دیگر شامل ہیں جبکہ وزارت دفاع میں صرف افواج پاکستان اور انکے ذیلی ادارے ماتحت کام کررھے ہوتے ہیں۔ آج ملک بھر میں خوارجیوں کی آمد اور مجرموں کی کاروائیاں تیز ہونے کے اسباب وزارت داخلہ اور محکمہ پولیس کی بدترین کرپشن، لوٹ مار، بدعنوانی، لاپرواہی اور نااہلی کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔ پاکستان دنیا کے چند برترین ممالک میں سے ایک ھے جہاں کے سول ادارے بدترین کرپشن کی نظر ہیں۔ حکومت کی بیڈ گورنرنس کے سبب عدم تحفظ بڑھ چکا ھے۔ ذہین و قابل تفتیشی افسران بار ہا بار صوبائی حکومتوں کو رپورٹ پیش کرتے چلے آرھے ہیں کہ محکمہ پولیس اور وزارت داخلہ میں نوے فیصد کالی بھیڑیں موجود ہیں۔ ان کالی بھیڑوں کا قلع قمع ناگزیر ھے کیونکہ ان کی طاقت اور اثرات اسقدر جا پہنچیں ہیں کہ ریاست بھی بلیک میل ہوجاتی ھے۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ صوبہ سندھ بلخصوص کراچی کو پر امن بنانے کیلئے حالیہ سروے کے مطابق کومبنگ آپریشن ناگزیر ہوچکا ہے یہ کومبنگ آپریشن اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ مکمل طور پر جرائم کا خاتمہ ممکن بن جائے۔۔۔۔۔ پر امن با تحفظ کراچی ، خوشحال اور ترقی کرتا سندھ۔۔۔۔!!

Exit mobile version