BBC Urdu TV

کراچی کے سینئر جرنلسٹ نے حکومت وقت کو بڑے خدشات سے آگاہ کردیا

*کراچی کے سینئر جرنلسٹ نے حکومت وقت کو بڑے خدشات سے آگاہ کردیا*

کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب اور صدر مملکت پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب کو ٹوئٹر پر پیغام دیا ھے کہ مستقبل قریب میں بڑے پیمانے پر حکومت کیخلاف عوامی رد عمل پیش ہونے جارھا ھے جو آپ ہی کی پالیسیوں کا پیش خیمہ ھے جس میں کسی بھی حزب اختلاف سیاسی جماعت کا عمل دخل نہیں ہوگا جو خالصتاً عوامی رد عمل غیر منصفانہ اور عدم مساوات کے بننے ھوگا اس کی سب سے بڑی وجہ آپ کے اعمال اور احکامات ہیں جو ایک ہی ریاست ایک ہی ملک میں جدا جدا اور بیگانے سے کہ کہیں کچھ نہ دیکر سب کچھ دیدیا تو کہیں سب کچھ لیکر کچھ نہ دیا یعنی ریاست پاکستان اور قومی خذانہ کو آزاد کشمیر کس قدر ٹیکس حکومت کو دے رھا ھے تو کراچی شہر کس قدر ٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں قومی خذانے کا پیٹ بھر رھا ھے۔ کراچی شہر پاکستان کا واحد شہر ھے جہاں ملک بھر کے چپے چپے کے رہنے والوں کے رشتہ دار ضرور بستے ھیں گر میں کہوں کہ آدھا پاکستان یہیں آباد ھے تو غلط نہ ھوگا۔ جناب وزیراعظم پاکستان اور صدر مملکت پاکستان آپ نے آزاد کشمیر کیلئے جو رعایتی پکیج عنایت کیا ھے وہ قابل تعریف اور قابل تحسین تو ھے مگر عدل و انصاف اور مساوات کی نفی میں ھے کیا ہی بہتر ھو اس عمل کو یکساں ملک پر رائج کیا جائے وگرنہ کراچی شہر حقِ اولیت رکھتا ھے۔ یاد رکھئے پاکستان کے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کراچی آپکی ظالمانہ پالیسیوں اور غیر منصفانہ احکامات کے سبب شہر کراچی کا صبر لبریز ھوچکا ھے، کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ بجٹ دو ہزار چوبیس اور پچیس میں ہنگامی بنیادوں پر کراچی کی گھریلو شہریوں کیلئے کے الیکڑک کا بھی فی یونٹ تین روپے اور گیس و پانی کا بل سو روپے مختص کرنا اب ضرورت بن گیا ھے، جاوید صدیقی نے وزیراعظم پاکستان اور صدر مملکت پاکستان کو آگاہ کیا کہ جمہوریت کی بقاء کیلئے فوری جمہوری عمل اپنانا ھوگا جس میں عوامی فلاحی امور شامل ہوں۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے وزیراعظم اور صدر کو مشورہ دیا کہ تمام سرکاری و نیم سرکاری دفاتر سے ایئرکنڈیشن ختم کردیئے جائیں صرف پنکھے استعمال میں لائے جائیں، یہ نوکر شاہی طبقہ اور اشرفیہ ریاست اور عوام کے کام کرنے آتے ہیں یا پکنک منانے، سرکاری گاڑیوں کی تعداد کم کردی جائیں اور گریڈ اکیس بائیس کیلئے حد سے زیادہ ہزار سی سی کی گاڑیاں منظور کی جائیں۔ موجودہ تمام ہزار سی سی سے زائد گاڑیاں آکشن کے ذریعے فروخت کرکے قومی خذانے میں رقوم جمع کرائی جائیں، اسی طرح سرکاری مد میں ملنے والی تمام عیش و تعائش کی اشیاء پر پابندی لگا کر پہلے سے موجود کو فروخت کردیا جائے اور تمام یوٹیلٹی سہولیات بھی ختم کردی جائیں یہ جمہوری ملک کسی بادشاہ کی سلطنت نہیں۔ انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ وزیراعظم، صدر مملکت، اسپیکر قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی، چیرمین سینٹ، چیف جسٹس، آرمی چیف، ان اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کیلئے ہزار سی سی کی گاڑیاں جبکہ ان سے کم کیلئے نو سو اور آٹھ سو سی سی کی گاڑیاں فراہم کی جائیں تاکہ پیٹرول کی بجت بھی ممکن ھوسکے۔ اسی قدر کم گریڈ والے افسران کیلئے چھوٹی گاڑیوں کی اجازت دی جائے۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے وزیراعظم جناب شہباز شریف صاحب اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب کو مشورہ دیا ھے کہ ملک کی ترقی آزاد اور خود مختیار ھوئے بغیر ممکن نہیں، اپنے وسائل کو فروخت کرنے کے بجائے بروئے کار لایا جائے اور عوام پر بوجھ ڈالنے سے مسائل نہ تو حل ھوسکتے ھیں اور نہ ہی ملک ترقی کی جانب بڑھ سکتا ھے، انھوں نے وزیراعظم اور صدر مملکت کو بیدار کرتے ھوئے ان طبقات کی جانب نشاندہی کی جو آج تک ٹیکس سے آزاد رھے ھیں ان میں جاگیردار اور انکی زمینی املاک، اسٹیٹ ایجنٹس، صحافی و اینکرز اور میڈیا مالکان اور ان سب کی سالانہ آڈٹ رپورٹ تیار کرکے ٹیکس عائد کئے جائیں۔ اگر آپ نے نظام ریاست کو مستحکم اور مضبوط بنانا ھے تو عدل و انصاف کیساتھ تناسب کو قائم رکھنا ھوگا یاد رکھئے یہ ملک ھے تو آپ ھم اور اسٹبلشمنٹ ھے اگر یہی نہیں رھا تو کوئی نہیں رہیگا یعنی غلامی کی زندگی موت سے بدتر ھے اور کون ہوتا ھے جو اس ملک کو غلام بنا ڈالے یہ ملک آزاد ھوا تھا اور آزاد ہی رہنا چاہئے، جو غلامی کی طرف دھکیلیں وہی تو اصل غدار ھیں اور غدار کی سزا سرے عام سزائے موت ھے۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version