*کراچی کے روشن مستقبل کا فیصلہ کرنا ناگزیر ھوگیا ھے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*صوبہ سندھ اب مزید نااہلیت اور جاہلیت کا متحمل نہیں ہوسکتا، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*ریاستی اداروں میں سیاست اور سیاسی سرگرمیوں کو دور رکھنا انتہائی ضروری ھے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*سندھ واحد صوبہ ھے جہاں نقل، شفارش اور رشوت عروج پر پہنچ ھے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*قابلیت، اہلیت اور ذہانت کو ہر شعبہ میں نوے فیصد قائم کیا جائے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے ہمارے اشاعتی ادارے کو بتایا کہ مملکت پاکستان کو نااہلیت اندر ہی اندر کھوکھلا کررہی ھے، مسلسل اداروں اور شعبہ جات میں سیاسی مداخلت نے نظام ریاست اور نظام زندگی کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ھے، اہلیت کا تناسب یہ ہوچکا ھے کہ ذہانت کے امتحان میں ڈھونڈنے سے کوئی کامیاب اہل نظر نہیں آتا سوائے چند ایک کے، انکا یہ بھی کہنا ھے کہ سرکاری اسکولز ھوں یا کالجز صرف نام کے رہ گئے ھیں، تعلیم و تربیت تو کجا عقل و شعور سے عاری ہی نظر آتے ھیں۔ شفارش، رشوت اور سیاسی بھرتیوں کیساتھ ساتھ کوٹہ سسٹم نے نااہل، ناکارہ اور کند ذہنوں کو پڑوان چڑھایا ھے، ایک مکمل سوچی سمجھی اسکیم کے تحت سندھ کو جاہلیت میں دکھیلا گیا ھے، ستر سال قبل یہاں کی تعلیم پاکستان بھر میں سب سے اعلیٰ تھی دور دراز سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے، ایماندار، دیانتدار اور دیندار اساتذہ کرام اور افسران ہوتے تھے۔ آج دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر یہاں سندھ کے جاہل، اوجھٹ اور ناکارہ سیاستدان، وزراء، مشیران، بیوروکریٹس اور وزیراعلیٰ نے ترقی و جدیدیت، تہذیب و اخلاق، امن و سکون کو دفن کردیا، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ ریاست پاکستان بلخصوص صوبہ سندھ اب مزید نااہلیت کی متحمل نہیں ہوسکتا، ریاستی اداروں کو سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنا ناگزیر ہوچکا ھے، سندھ واحد صوبہ ھے جہاں نقل، شفارش اور رشوت عروج پر پہنچ ھے، قابلیت، اہلیت اور ذہانت کو سندھ میں نوے فیصد مقرر کیا جائے تاکہ اہل، ذہین اور قابل امیدواروں اور بلخصوص طالبعلموں کا مزید استحصال اور حق تلفی نہ ھو اور یہ ستر سالوں سے جاری حق تلفی کا خاتمہ کیا جانا وقت کی ضرورت بن چکا ھے، انھوں نے کہا کہ کوٹہ سسٹم دین محمدی ﷺ کے مکمل برخلاف اور قاتل حق ھے جسکی پکڑ رب کے ہاں بڑی سخت ھے۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ کراچی کے روشن مستقبل کا فیصلہ کرنا ناگزیر ھوچکا ہے۔ کراچی یونیورسٹی سمیت دیگر تمام کراچی کی سرکاری یونیورسٹیوں میں مقامی مستقل رہائشیوں کے طالبعلموں کو سخت ترین امتحان کے بعد انکی قابلیت کے تحت داخلہ دیا جائے اور اسی فیصد فیس حکومت خود ادا کرے اور مستحقین و اضافی قابلیت کے حامل طلباء و طالبات کیلئے تمام تر فیس معاف ھو تاکہ یہ قابل، ذہین اور اہل طلباء و طالبات فارغ التحصیل کے بعد دس سے پندرہ سال تک ریاست کی خدمت کرسکیں اس بابت دوران تعلیم ان سے معاہدہ کے تحت پابند کرلیا جائے۔ دوسرا یہ کہ حکومت سندھ سال دو ہزار پچیس میں طے کریں اور ابھی سے پلاننگ کرلیں کہ ہر ڈویژن یاد رھے کہ سندھ کے ڈویژن میں کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ، لاڑکانہ اور سکھر شامل ھیں یہ چھ ڈویژن اپنے اپنے ڈویژن کے طلباء و طالبات کا امتحان لیکر اپنے ہی ڈویژن کے کالجز و یونیورسٹیز میں داخلہ دیں اور دوسرے کسی بھی ڈویژن کے طالباء و طالبات کا داخلہ سے ممنوع قرار دے دیں، تاکہ ایک جانب ہر ڈویژن کی تعلیمی و انتظامی کارکردگی سامنے آجائیگی دوسرا یہ کہ ہر ڈویژن بہتری اور اچھی کارکردگی کیلئے سرگرداں ہوجائیگا اور پھر صوبہ سندھ سے غیر منصفانہ ظالمانہ عمل بھی دم توڑ جائیگا۔ کراچی اور حیدرآباد میں مزید سرکاری یونیورسٹیاں قائم کی جائیں اور میرپورخاص ڈویژن میں دو یونیورسٹیز جن میں میڈیکل اور انجینئرنگ کی قائم ھونا وقت کی ضرورت بن چکی ھیں۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ این ٹی ایس ٹیسٹ ایک سیاسی چال ھے جو صرف دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ نہیں کیونکہ جن کے ہاتھوں میں اس کی انتظامی امور ھیں وہ خود کرپٹ ترین ھیں، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے حیرت کا اظہار کرتے ھوئے بتایا ھے کہ جہاں عدالتیں اور منصفین کمزور اور بے بس ھوں وہاں کے قانون اور انصاف کی کس قدر اہمیت رہ جاتی ھے۔ اب وقت ھے کراچی سمیت سندھ بھر سے کالے دھند مافیاء، سفید ہاتھیوں کو ہلاک کرکے سندھ کی ترقی و کامرانی کو پڑوان چڑھایا جائے۔ یاد رھے کہ جب ہر ڈویژن خود مختار ھوجائیگا تو مسائل بھی از خود حل ھوجائیں گے بصورت یہ قوم بھکٹی گمراہ رہے گی اور ریاست کمزور پڑتی رہیگی۔ مانا کہ اس ملک ریاست اور صوبوں کی حکمرانی ھو یا نوکرشاہی سب کے عوامل میں بڑا اہم کردار رہتا ھے، سندھ کی بہتری خوشحالی ترقی و جدیدیت میں یہ اپنا کردار ادا کریں تو یقیناً سب بہتر ہوسکتا ھے اللہ ھم سب پر رحم فرمائے آمین ۔۔۔۔!!
