*کراچی پریس کلب کا وقار مجروح کرنے والے عارف خان کا حق دعویٰ عدالت نے مسترد کردیا۔*
*فاضل عدالت کے پاس عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مدعی کو دوبارہ کراچی پریس کلب کا ممبر بنائے*
*عدالت نے کراچی پریس کلب کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے عارف خان کی رکنیت بحال کرنے کی استدعا مسترد کردی۔*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) سول جج جنوبی زاہد علی نے سوشل میڈیا پر کراچی پریس کلب کا وقار مجروح کرنے اور بے بنیاد من گھڑت جھوٹے الزامات لگانے والے عارف خان کا دائر دعویٰ ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا اور کہا ہے کہ عدالت کے پاس عارف خان نامی صحافی کی رکنیت بحال کرنے کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے۔ لہٰذا عارف خان عدالت میں آنے سے قبل جنرل کونسل اجلاس میں اپنی اپیل دائر کرے۔ فاضل عدالت میں درخواست گزار عارف خان کے وکیل عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جبکہ کراچی پریس کلب کی جانب سے کیس کی پیروی کرنے والے سینئر وکلاء حیدر امام ایڈوکیٹ اور احسن امام ایڈوکیٹ نے تمام کاغذی کارروائی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اپنے دلائل میں کہا کہ عارف خان نامی شخص نے کراچی پریس کلب کا نہ صرف تقدس پامال کیا ہے بلکہ جمہوریت سمیت ججز کی بحالی و عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار رائے کے لئے جدوجہد، معاشرے میں ہر مظلوم و بے کس کی توانا آواز بننے کی شاندار تاریخ رکھنے والا کراچی پریس کلب کے مقدم فورم کو بھی بائی پاس کیا، احسن امام ایڈوکیٹ نے مزید اپنے دلائل میں کہا کہ اٹھائیس مئی سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی کو عارف خان کی رکنیت منسوخ کی گئی اور انیس مئی سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی کو کراچی پریس کلب نے اس فیصلے سے تحریری طور پر عارف خان کو آگاہ کیا جس کا ریکارڈ فاضل عدالت میں جمع کروا دیا گیا ہے تاہم عارف خان نے رکنیت منسوخی کا تحریری خط وصول کرنے سے انکار کیا اس کے بعد کراچی پریس کلب نے انہیں بذریعہ واٹس ایپ پر بھی آگاہ کیا جس کا ثبوت فاضل جج کے سامنے پیش کر دیا تمام کاروائی کراچی پریس کلب کے آئین کے مطابق انجام دی گئی ہے، احسن امام ایڈوکیٹ نے فاضل عدالت کو مزید بتایا کہ درخواست گزار نے دائر سوٹ کیس میں عدالت سے بھی حقائق چھپائے ہیں کہ ان کے خلاف انضباطی کارروائی سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی سے عمل میں لائی گئی حالانکہ عارف خان کے خلاف انضباطی کاروائی سنہ دو ہزار تیئس میں شروع کی گئی تھی جس پر انہوں نے تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگی اور آئندہ جھوٹی من گھڑت بے بنیاد خبریں نہ چلانے کی یقین دہانی بھی کروائی، ان تمام معافی نامے اور یقین دہانیوں کی نقول بھی فاضل عدالت میں جمع کرائی جاچکی ہیں لہٰذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ دائر دعویٰ کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کیا جائے۔ فاضل جج زاہد علی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل عدالت کو مطعین کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ کہ عارف خان کو کراچی پریس کلب کے فیصلے سے اتفاق نہیں ہے تو درخواست گزار پہلے اس فیصلے سے متعلق متعلقہ فورم پر رجوع کرے بصورت دیگر حق دعویٰ دائرہ کرنا قبل از وقت ہے لہٰذا درخواست گزار کا حق دعویٰ خارج کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ عارف خان نامی صحافی کی جانب سے سوشل میڈیا پر بار بار من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے کراچی پریس کلب کا وقار اور ساکھ مجروح کرنے پر کراچی پریس کلب نے تنبیہ کی تھی اور شوکاز جاری کیا تھا جس پر عارف خان نے تحریری طور پر نہ صرف غیر مشروط معافی مانگی بلکہ آئندہ بغیر تصدیق من گھڑت بے بنیاد اور جھوٹی خبروں کی نشر و اشاعت نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی جس پر کراچی پریس کلب نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انکی رکنیت بحال کردی تھی تاہم اس کے باوجود عارف خان سے اپنی روش باز نہ آئے اور پھر سے سوشل میڈیا پر کراچی پریس کلب کے خلاف بے بنیاد من گھڑت جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا جس پر اسکی بنیادی رکنیت کو گورننگ باڈی نے متفقہ طور پر منسوخ کردیا۔ فاضل جج نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ کراچی پریس کلب کے تصدیق شدہ آئین کے مطابق کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی کو اپنے کسی بھی رکن کی رکنیت معطل یا منسوخ کرنے کا مکمل اختیار ہے اور یہ بھی کہ متعلقہ رکن کو اپیل دائر کرنے کا حق بھی حاصل ہے اور اسکی رکنیت کی معطلی یا برطرفی کے خلاف کراچی پریس کلب کی جنرل کونسل کے لئے پندرہ دن کے اندر اندر اپیل دائر کرنی ہوگی۔ مدعی کے وکیل نے اپنے مدعی اور دعا میں دعویٰ کیا کہ کراچی پریس کلب نے اپنے سیکریٹری کے ذریعے کراچی پریس کلب کی رکنیت کو زبانی طور پر حکم دیا اور منسوخ کیا اس لئے اس حکم کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے تاہم مدعا علیہ کے وکیل نے حکمنامہ مورخہ انتیس مئی سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی کا تحریری نوٹس پیش کیا کہ مدعی کی رکنیت کی کراچی پریس کلب کے وقار مجروح کرنے کے خلاف منسوخ کردی گئی ہے۔ فاضل عدالت نے مزید یہ کہا اس عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مدعی کو دوبارہ کراچی پریس کلب کا ممبر بنائے کیونکہ کراچی پریس کلب کا آئین پہلے ہی جنرل کونسل کا مناسب فورم فراہم کرچکا ہے اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے یہ ظاہر ہے کہ عارف خان نے ابھی تک مناسب فورم سے رجوع نہیں کیا اور براہ راست اس عدالت میں آکر اپنی رکنیت کی بحالی کے لئے درخواست کی۔ کارروائی کے دوران مدعا علیہ کے وکیل نے حکم نامے کی کاپی پیش کی جس کے ذریعے مدعی کی پریس کلب کی رکنیت منسوخ کردی گئی۔ مندرجہ بالا حقائق اور حالات کے پیش نظر فوری دیوانی مقدمہ خارج کیا جاتا ہے تاہم درخواست گزار کو کراچی پریس کلب کے حکم کے خلاف مناسب فورم سے رجوع کرنے کی آزادی ہے۔
