BBC Urdu TV

کراچی ( رپورٹ : جاوید صدیقی ) کراچی میں پانچ فروری کی شب گھر سے اغوا ہونے والے اینکرپرسن

کراچی ( رپورٹ : جاوید صدیقی ) کراچی میں پانچ فروری کی شب گھر سے اغوا ہونے والے اینکرپرسن سلمان مرزا کی بازیابی کے لیے صحافی برادری نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سلمان مرزا کے بزرگ والدین اور دیگر اہل خانہ بھی شریک ہوئے۔ احتجاج میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پیر تک کا الٹی میٹم دیتے ہوئے سلمان مرزا کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس ایڈہاک کمیٹی اور اینکرز کلب کی اپیل پر ہفتے کی شام مظاہرہ کیا گیا جس میں صحافی برادری کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سلمان مرزا کے بزرگ والدین، اہلیہ اور دیگر اہل خانہ بھی شریک تھے۔ اینکرپرسن سلمان مرزا کو پانچ فروری کی رات تین بجے نامعلوم مسلح افراد گھر سے اغوا کر کے لے گئے تھے۔ مسلح افراد ان کا موبائل فون بھی ساتھ لے گئے۔ واقعے کے فورا بعد اہل خانہ نے گلستان جوہر تھانے سے رجوع کیا لیکن پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔ سلمان مرزا اب تک لاپتا ہیں۔ احتجاجی مظاہرے میں صدر کراچی پریس کلب سعید سربازی، سینیر صحافیوں رکن پی ایف یو جے ایف ای سی جاوید چوہدری، چیئرمین کراچی یونین آف جرنلسٹس ایڈہاک کمیٹی محمد امتیاز خان فاران و اراکین، مقصود یوسفی، نصیر احمد، عارف بلوچ، بانی اینکرز کلب اختر شاہین رند، طاہر حسن خان و دیگر نے اظہار خیال کیا۔ صحافی رہنماؤں نے کہا کہ آزادی اظہار پر پابندی نامنظور ہے، آئین ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ سلمان مرزا سے اگر کسی فرد یا ادارے کو کوئی پریشانی یا ناراضگی ہے بھی تو اس کے لیے قانونی طریقہ اور فورم استعمال کیا جانا چاہیے۔ صحافیوں کے لیے ایسے حربے نئے نہیں، ایسے اقدامات سے صحافیوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلمان مرزا کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ پیر تک اگر سلمان مرزا کو بازیاب نا کرایا گیا تو پھر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس موقع پر سینئر صحافی امتیاز شاہ، گل ماموند، حفیظ بلوچ، اراکین اینکرز کلب طارق متین، ذیشان یاسین، محمد علی سومرو، مجتبیٰ جوکھیو، امتیاز لغاری، جویریہ علی، ثنعیہ ملک، مختار احمد، عروج عبدالواحد و دیگر شریک تھے۔

Exit mobile version