
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پيپلز پارٹی بلاول ڀٽو زرداري کے ویزن کے مطابق سکھر ڈویزن کے تین اضلاع سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں عوام پر بجلی کا بوجھ کم کرنے کیلئے سولر پینلز کی تقسیم کا آغاز کیا ہے, یہ بات انہوں نے گزشتہ روز سکھر میں اسپورٹس کمپلیکس میں محکمہ توانائی کے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ کے تحت سولر پینلز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل اور آج سندھ کے ہائی ویز پر سن، قاضی احمد اور رانی پور کے قریب افسوس ناک حادثات ہوئے ہیں, جس میں بہت سی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے، وفاقی حکومت نے نیشنل ہائی وے کو نظر انداز کیا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان کی سڑک نہیں۔ ان سڑکوں کی اتنی بری حالت ہے کہ حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈس ہائی وے کی تعمیر کیلئے سندھ حکومت نے فنڈز فراہم کردیئے ہیں تاہم وفاقی حکومت نے پچھلے آٹھ سالوں سے اس پر کام مکمل نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انڈس ہائی وے کی تعمیر مکمل کی جائے اور نیشنل ہائی وے کو بہتر کیا جائے تاکہ قیمتی جانیں محفوظ بنائی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا سولرائیزیشن پروگرام دو ہزار بارہ میں شروع کیا گیا، سنہ دو ہزار بارہ میں جب میں وزیر توانائی تھا اس وقت ضلع سانگھڑ کے کھپرو تعلقہ کے بارڈر کے گاؤں والوں سے بات ہوئی، اس وقت گاؤں والوں نے بتایا کہ بارڈر کے اس پار انڈیا میں بتیاں جلتی ہیں جس سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں، جس کے بعد ان دو گاؤں کو سولرائیز کر کے اس پروگرام کا آغاز کیا، اس کے بعد ضلع تھرپارکر میں جو اسکول گرڈ سے دور ہیں ان کو سولرائیزڈ کیا، لیکن سولرائزیشن پروگرام میں تیزی تب آئی جب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنا ویزن دیا کہ مہنگی بجلی کا بوجھ غریب عوام پر نہیں ڈال سکتا، انہوں نے واعدہ کیا تھا کہ غریب عوام کو سستی بجلی دینی ہے، ہم نے عالمی بینک سے بات کی اور سولرائیزیشن کا آغاز کیا اس پروگرام کے تین حصے ہیں، پہلے پروگرام میں حکومت کا خرچ بچانے کیلئے سرکاری عمارتوں میں سولرائیزیشن کا آغاز کیا تا کہ وہ فنڈز عوام کی بہبود کیلئے کام آسکے۔ اس وقت تک پینتالیس سرکاری عمارتوں کو سولرائیزڈ کیا گیا ہے جس میں سینٹرل جیل کراچی و دیگر شامل ہیں۔ اسکے علاوہ چھ سو چھپن اسکول اور پچیس سینٹرل لائبریریاں انکو سولر انرجی پر منتقل کرنے پر کام جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے پروگرام کے تحت غریب لوگ جنکا ایک کمرے کا مکان ہے وہ بجلی کے خرچے کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے ہیں ان کیلئے تین ماہ قبل اسکیم شروع کی جس کے تحت دو لاکھ گھروں کو شمسی توانائی فراہم کررہے ہیں، اس پروگرام کے تحت سولر پلیٹ ایک پنکھا، تین بلب، بیٹری بیک اپ اور موبائل چارجر فراہم کررہے ہیں۔ اس پروگرام کا افتتاح چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دو ماہ قبل وزیراعلیٰ ہائوس میں کیا، انہوں نے کہا کہ وہ صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاھ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے تین ماہ کے قلیل عرصے میں اس پروگرام کو آگے بڑھایا ہے اور پچاس ہزار سولر سسٹم ملک میں پہنچ گئے ہیں اور مزید پچاس ہزار کچھ ہی ہفتوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے، یہ سولر سسٹم صوبہ سندھ کے ہر ضلع میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے رجسٹرڈ خاندانوں میں تقسیم کئے جائینگے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ حکومت وہ پروگرام مکمل کرنے جارہی ہے جسکا پوری دنیا میں چرچا ہے جس کے تحت اکیس لاکھ سیلاب متاثرین کو گھر بناکر دے رہے ہیں جس سے ایک کروڑ بیس لاکھ لوگ مستفید ہونگے انکو پکا گھر ملے گا, خدا نہ کرے دوبارہ کوئی ایسا امتحان آتا ہے وہ اپنے گھروں میں محفوظ بیٹھے رہیں گے، انکو ٹینٹس کی ضرورت نہیں پڑیگی، انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک سو پچاس ایسے ممالک ہیں جنکی آبادی ایک کروڑ بیس لاکھ سے کم ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صوبہ سندھ کیلئے وہ پروگرام بنایا ہے جو ایک سو پچاس ملکوں سے بڑا پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس پروگرام کیلئے درکار فنڈز کا بندوست عالمی بینک، ایشائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک، ڈونر ایجنسیز اور وفاقی حکومت سے مل کر کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت آٹھ لاکھ سے زائد گھر بن رہے ہیں، انشاء الله جون سنہ دو ہزار چھبیس تک اکیس لاکھ گھروں کی تعمیر کا ٹارگٹ مکمل کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی سے پندرہ ہزار ٹن کچرہ روزانہ جمع ہورہا ہے، اس سے پچاس میگا واٹ بجلی بنانے کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس پر جلد کام مزید آگے بڑھیگا۔ اسکے علاوہ محکمہ توانائی نے کینجھر لیک پر فلوٹنگ سولر پینل لگانے کا منصوبہ بنایا ہے، انہوں نے کہا کہ تھر میں کوئلے کے پروجیکٹ سے ہم نے پاکستان کو بدل دیا ہے، اس وقت جو سارے مخالفین تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ سندھ میں کوئی پروجیکٹ بنے، اب وہ ہمیں روز التجا کرتے ہیں کہ اسکو جلدی آگے بڑھاؤ، اس لئے کہ یہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا سب سے سستا منصوبہ ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ میں سولر اور ونڈ کے پروجیکٹ پر کام جاری ہے جو کہ گرین اور کلین انرجی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اس صوبے کے لوگوں نے مسلسل چوتھی بار حکومت دی ہے، اس صوبے کے لوگوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات سے زیادہ سنہ دو ہزار تیرہ میں نشستیں دیں، سنہ دو ہزار اٹھارہ میں سنہ دو ہزار تیرہ کا رکارڈ توڑا اور سنہ دو ہزار چوبیس میں سنہ دو ہزار اٹھارہ کے مقابلے میں زیادہ نشستیں صوبے کے لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو دلوائیں۔ اس صوبے کے لوگوں کی خدمت کرنا ہم پر فرض ہے، انشاء الله جب ہم سنہ دو ہزار انتیس کے انتخابات میں بھی سرخرو ہو کر جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ زیادہ تشہیر کرنے سے نہیں ملتے، پاکستان پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی کے بنیاد پوری پاکستان میں اول نمبر پر آئیگی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری انشاء الله اس ملک کے وزیراعظم بنیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کیمطابق سولر پینلز پروگرام کا سکھر ڈویژن میں آغاز کررہے ہیں۔ جسکا مقصد ہے کہ مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ میں عوام ریلیف دیا جائے۔ سکھر ڈویژن میں یہ پروگرام ہینڈز اور ایس آر ایس او سے مل کر کیا جارہا ہے۔ پچاس ہزار سولر پینلز پاکستان پہنچ چکے ہیں، ایک دو روز میں مزید پچاس ہزار سولر پینلز پہنچ جائیں گے، ہماری کوشش ہے کہ مزید ایک لاکھ سولر پینلز مارچ تک پاکستان پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید پانچ لاکھ سولر ہون پینلز کے فنڈز دیئے ہیں۔ اس پر بہت کام ہوچکا ہے، اس کے تحت بھی بہت جلد سولر پینلز کی تقسیم کے کام کا آغاز کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کیلئے بالکنی پینلز کا پروگرام بھی شروع کررہے ہیں، جس میں گنجان آبادی میں فلیٹس میں رہنے والے لوگ اس سے مستفید ہوسکیں۔ یہ پروگرام بجلی کے زیرو سے سو یونٹ استعمال کرنے والوں کیلئے شروع کیا گیا ہے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و ایم این اے سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وعدہ کیا تھا کہ غریب لوگوں کے گھروں میں گرین انرجی پہنچاؤں گا جو انہوں نے وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ کسی کے خواہش پر سولر سسٹم کی تقسیم نہیں کی جائیگی، جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے اہل خاندان ہیں انکو سولر سسٹم دیئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ سندھ میں اکیس لاکھ گھروں کی تعمیر کی گئی، اب انکو سولر پینلز دیئے جارہے ہیں۔ سید خورشید احمد شاہ نے مزید کہا کہ ہمیں ووٹ نہیں عوام کی بہبود اور ترقی چاہئے، تقریب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما منظور حسین وسان، ایم این اے نعمان اسلام شیخ نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ، صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ، صوبائی وزیر صنعت جام اکرام اللہ دھاریجو، چیئرمین ضلع کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ، میئر سکھر بیریسٹر ارسلان اسلام شیخ، پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلع صدر سید جاوید حسین شاہ، ایم پی اے ہالار خان وسان، ایم پی اے سید فرخ شاہ، نواب وسان, چیف ایگزیکٹو آفیسر سرسو ڈتل کلہوڑو ، پراجیکٹ ڈائریکٹر محفوظ احمد قاضی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ہینڈز ڈاکٹر تنویر ودیگر بھی موجود تھے۔
