کراچی (بیوروچیف: جاوید صدیقی) جمعرات 20 اپریل کو چاند نظر آنے کا امکان نہیں، عید الفطر 30 روزے مکمل ہونے کے بعد ہفتہ 22 اپریل 2023ء کو منائی جائیگی، رویت ہلال ریسرچ کونسل
تفصیلات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں رمضان المبارک کے پندرہ سے زائد روزے گزر جانے کے بعد عید الفطر کی آمد کی تیاریاں شروع کردی گئیں جبکہ پاکستان میں رویت ہلال ریسرچ کونسل کی جانب سے ملک میں شوال کے چاند کی رویت سے متعلق پیشن گوئی کی گئی ہے، رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکریٹری جنرل خالد اعجاز مفتی نے بتایا کہ شوال المکرم کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جمعرات 20 اپریل کی شام ہوگا تاہم اس شام عید کا چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے، لہٰذا عید الفطر 30 روزے مکمل ہونے کے بعد ہفتہ 22 اپریل 2023ء کو منائی جائیگی۔ رویت ہلال ریسرچ کونسل کیمطابق چاند کی پیدائش جمعرات 20 اپریل کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 13 منٹ پر ہوگی۔ اس روز یعنی 29 رمضان المبارک کی شام غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر جو رویت کے لئے 19 گھنٹوں سے زائد ہونی چاہئے وہ پاکستان کے تمام علاقوں میں 10 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی۔ دوسری جانب غروبِ شمس اور غروبِ قمر کے درمیان فرق جو 40 منٹ سے زائد ہونا چاہئے، وہ فرق پشاور، گلگت، مظفر آباد، چارسدہ، اسلام آباد / راولپنڈی، کوئٹہ اور جیوانی میں 21 منٹ جبکہ لاہور اور کراچی میں 20 منٹ ہوگا چنانچہ پاکستان کے تمام علاقوں میں مطلع انتہائی صاف ہوا تو بھی 20 اپریل کی شام ٹیلی اسکوپ پر بھی چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 21 اپریل کو 30 رمضان المبارک اور 22 اپریل کو یکم شوال ہوگی۔ 20 اپریل کی شام پاکستان کے کسی بھی صوبے یا کسی بھی شہر یا کسی بھی علاقے سے رویتِ ہلال کی موصول ہونے والی ہر شہادت جھوٹی ہوگی۔ سیکریٹری رویت ہلال ریسرچ کونسل نے کہا کہ 21 اپریل کی شام غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 33 گھنٹوں سے بھی زائد ہوچُکی ہوگی جبکہ غروبِ شمس و غروبِ قمر کے درمیان فرق پاکستان کے تمام علاقوں میں 80 منٹ سے بھی زائد ہوگا۔ اِس طرح 30 ویں روزے کی شب ہلال موٹا اور تا دیر دکھائی دے گا جس پر بعض لوگ کہیں گے کہ یہ یکم نہیں بلکہ دو تاریخ کا ہلال ہے جبکہ شرعی اور سائنسی لحاظ سے وہ ہلال یکم ہی کا ہوگا۔
