BBC Urdu TV

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ کراچی یونیورسٹی

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ کراچی یونیورسٹی کو اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یتیم سمجھتے ہوئے مکمل نظر انداز کر رکھا ھے یوں تو بیشمار مسائل سے کراچی یونیورسٹی تا حال دوچار ھے انہیں مسائل اور عدم توجہگی کے سبب طلباءوطالبات کیلئے کینٹین کا نظام، قیمتیں اور نشستیں ناپید اور غیر منظم اور غیر معیاری ہیں۔ یہ حقیقت ھے کہ سندھ حکومت نے ڈاؤ یونیورسٹی بندر روڈ اور ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا پر توجہ دیتے ہوئے ایک شاندار یونیورسٹی کی مراعات شدہ بنادیا ھے یہی عمل اگر کراچی یونیورسٹی پر بھی کردیا جائے تو کراچی یونیورسٹی چار چاند نظر آسکتی ھے اور ملک بھر کے یونیورسٹی پر ظاہری سبقت بھی لے لی گی یاد رھے کہ کراچی یونیورسٹی میں تدریسی و تحقیقی عوامل ابتک سب سے بہتر شاندار اور نمایاں ہیں۔ بہترین منفرد قابل اساتذہ کرام کی کھیپ بھی ھے بس اس کراچی یونیورسٹی کی سڑکوں کی تعمیر، ٹرانسپورٹ میں اضافہ اور ری کنڈیشن گاڑیوں تیاری، حاجت خانوں کی مرمت اور کینٹین کی حالت کو جدید خوبصورت انداز میں تیار کرنے کی ضرورت ھے اس عمل سے نہ صرف کراچی یونیورسٹی کا معیار اور مقبولیت میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ آپ صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کی کارکردگی نمایاں اور روشن نام پیدا کریگی۔ کسی بھی ملک یا صوبے کی صلاحیت وہاں کے تعلیمی اداروں کی ظاہری و تدریسی صورتحال بتاتی ھے۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے امید ظاہر کی ھے کہ انکی ان نشاندہی پر ضرور توجہ فرماتے ہوئے کراچی یونیورسٹی کو ایک وسیع خاطر خواہ فنڈ جاری کرکے تعمیراتی سطح پر جاذب نظر بنائیں گے۔ پی پی پی وہ جماعت ھے جن کے وزراء و مشیر سندھ کی ترقی میں اپنا لاثانی کردار ادا کرسکتے ہیں بس انہیں ان مسائل کی طرف توجہ دلانی کی ضرورت ہوتی ھے جو عوام الناس کے اجتماعی ضرورت پر منحصر ھو ، کراچی یونیورسٹی بھی عوام الناس کے اجتماعی مسائل میں سے ایک ھے۔۔۔۔!!

Exit mobile version