BBC Urdu TV

کراچی (اسٹاف رپورٹ) سماء چینل کے مالک عبدالعلیم خان، 365 چینل کے مالک شرجیل انعام میمن

کراچی (اسٹاف رپورٹ) سماء چینل کے مالک عبدالعلیم خان، 365 چینل کے مالک شرجیل انعام میمن اور اب اےآروائی کے مالک سلمان اقبال نے تو سب مالکان کو پیچھے ہی چھوڑ دیا اور اپنے ملازمین سے محبت و پیار اور خیال میں سبقت لے گیا۔ سلمان اقبال نے پاکستان بھر کی میڈیا انڈسٹری کو حیراں و تعجب کردیا۔ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کی تاریخ میں پہلی بار سلمان اقبال کی جانب سے میگا انعامات و تحائف کی بارش ملازمین کیلئے دیکھی۔ سلمان اقبال نے اپنے سینئرز کو خوشی میں نہال کردیا اور ایک ساتھ طوالت کا سفر کرنے والوں کو عمرہ کی ادائیگی کیلئے ٹکٹس، بونس، ترقیاں اور سب سے بڑھ کر شراکت داری میں حصہ دار بنا ڈالا گویا حقیقی معنوں میں اپنی فیملی کا حصہ بنالیا۔ ابتدائی دنوں سے وابستہ سابق نیوز پروڈیوسر، سابق پروڈیوسر اینڈ ڈائریکٹر اور سابق آرکائیو نائٹ انچارج اےآروائی کے سابق پائینر جاوید صدیقی نے اےآروائی کے مالک سلمان اقبال سمیت حاجی جان محمد میمن، حاجی اقبال میمن اور حاجی عبدالرؤف کو اےآروائی کی سلور جوبلی پچیس سالہ سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی ھے۔ جاوید صدیقی نے ریز پروڈکشن سے اےآروائی ڈیجیٹل پھر اےآروائی نیٹ ورک تک کا سفر میں شب و روز حاجی عبدالرؤف کی گراں قدر محنت لگن توجہ اور انتظامی امور خاص طور پر رھے ہیں۔ پاکستان کا پہلا سب سے وسیع دنیا کے ممالک میں دیکھا جانے والا چینل اےآروائی ہی تھا۔ اےآروائی کا پہلا لائیو شو اداکار ندیم اور ژالے سرحدی اینکرز تھے جبکہ ڈائریکشن مبشر لقمان کی تھی جو سنہ 2000 ء میں لاؤنچ ہوا اور کئی سال چلا۔ جس میں صرف اےآروائی کی جانب سے سونا انعامات میں دیا جاتا تھا۔ ان دنوں بھی جاوید صدیقی اےآروائی سے جڑے ہوئے تھے۔ آج اےآروائی بلندیوں کو چھو رھا ھے مگر اس میں انتظامی خامیاں بڑھتی جارہی ہیں جس کا سدھار لازمی ھے وگرنہ اس کی ترقی و بلندی کی رفتار سست واقع ہوسکتی ھے۔ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ اےآروائی نیٹ ورک کو اس وقت مکمل پروفیشنل ہونا چاہئے تھا لیکن افسران کی بےجا ناانصافی کے سبب مخلص محنتی پروفیشنل اور عزت نفس رکھنے والے خیرباد کہہ گئے اور کئی ان افسران کی نفرت و ضد و اکڑ و تکبر و غرور کے بھینٹ چڑھ گئے۔ اےآروائی نیٹ ورک جس قدر پروفیشنل ادارہ بنے گا اسی قدر قابل ماہر پروفیشنل کا وجود قائم رہیگا۔

Exit mobile version