کاھو جو ڈرو میرپورخاص اور سینیٹر عبدالغفار قریشی
تحریر: جاوید صدیقی
غالباً سنہ انیس سو پچاسی یا چھیاسی ھوگا جب میرپورخاص کا ایک شریف النفس پڑھا لکھا گریجویٹ نوجوان عبدالغفار قریشی سندھ اسمبلی کا ممبر منتخب ھوا تھا اس نے مجھے اسائمنٹ دیا کہ ڈپٹی اسپیکر سید باری جیلانی آئیں گے کئی پروگرام ھیں ان میں کاہو جو ڈرو کی مرمت اور آثار قدیمہ کے توسط سے اس کی تاریخی باقیات کا تحفظ کیلئے موثر عملدرآمد کرانا شامل ھے اس سارے پروگرام کی وڈیو ریکارڈنگ اور شوٹنگ کی ذمہداری مجھے سونپی تھی۔ یہ دور سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل ضیاءالحق اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کا تھا اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید مظفر علی شاہ تھے۔ اس دورے کے بعد کاہو جو ڈرو کے اطراف آہنی تاروں سے چار دیواری کی گئی تاکہ لینڈ مافیا اور ریتی بجری مافیا اس ٹیلے کی ریت و مٹی کو کاٹ کر نہ لے جاسکیں لیکن اقتدار کی تبدیلیوں کیساتھ ساتھ کاہو جو ڈرو پر ایک جانب لینڈ مافیا تو دوسری جانب ریتی بجری مافیا نے تاریخی علاقہ جات کو زمین دوز کردیا گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں جیالوں نے جلوہ گری دکھادی کہ میرپورخاص سندھ جیسے ان کے باپ دادا کی جاگیر ھو جو چاھے جس طرح چاھے برباد اور تہس نہس کردے۔ عبدالغفار اپنی شرافت اور محبت کا دل رکھنے کی وجہ سے سیاست سے دور ھوچکا ھے کیونکہ اب سیاست شریف نفیس مہذب پڑھے لکھے ایماندار دیانتدار مخلص دردِ دل رکھنے والوں کو اب جگہ نہیں دے رھی۔ آجکل عبدالغفار قریشی پاکستان مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھتے ھیں اور قاف کی سیٹ سے سینیٹر بھی رہ چکے ھیں۔ میں نے انہیں یہی مشورہ دیا کہ سیاست کو آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ھے کیونکہ پرگندی سیاست کو صاف کرنا ھے کیونکہ حب الوطنی کا یہی تقاضہ ھے۔۔۔۔۔!!
