ابھی خُشک بھی نہ ہوئے تھے وہ اشک
جو سیلاب سے آئے تھے آنکھوں میں
کانپتے جسموں کی بےبسی نے،
پھر سے ہمیں روُلا دیا
گُزری ہی تھی قیامت ضعیفوں، جوانوں پر ابھی ابھی
سرد موسم نے غریبوں کو،
اک اور امتحاں میں ڈال دیا
بڑے تو بڑے ہیں، کچھ دن صبر کرجائیں گے
کم سن وجود سردی کی
بھلا کیسے تاب لا پائیں گے
پھولوں کی مانند بہت سے بچے
بن کِھلے ہی مُرجھا جائیں گے
شب بھر کُھلے آسماں تلے
دیکھ کر پریشاں خلق کو
چاند، ستارے مانگتے ہیں، اپنے خالق سے دعا اس طرح
کہ پلکوں کے جھپکتے ہی طلوع آفتاب ہو
اے قادرِ مطلق ۔ ۔ ۔ گھٹ جائے، اسقدر ہمارا دوراں
چاند، ستاروں کی دیکھا دیکھی
چلو ہم بھی اُنکا ساتھ دیں
گرم کپڑوں، شالوں، لحافوں سے
ٹھٹرتے جسموں کو جلدی ڈھانپ دیں!!
(کاشف شمیم صدیقی)
