ڈیجیٹل تشدد: خواتین اور لڑکیوں کے خلاف نئے محاذ کا بڑھتا ہوا خطرہ
تحریر: ڈاکٹرفیعہ نوشین
ہر سال 25 نومبر سے 10 دسمبر تک دنیا بھر میں "UNiTE” مہم کے تحت خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے 16 روزہ سرگرمیاں منائی جاتی ہیں۔ اس سال مہم کی توجہ خاص طور پر ایک تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران پر مرکوز ہے- اور وہ ہے "ڈیجیٹل تشدد” یعنی وہ ظلم جو اسکرینوں کے پیچھے شروع ہوتا ہے اور ا حقیقت کے روپ میں سامنے آتا ہے –
آن لائن دنیا اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہی؛ یہ ایک نیا محاذ ہے جہاں خواتین اور لڑکیوں کو ہراسانی، بلیک میلنگ، گرومنگ، سائبر اسٹاکنگ، ڈیپ فیک تصاویر، اور استحصال جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ یہ تشدد محض ورچوئل نہیں ہوتا، بلکہ یہی آن لائن درندگی حقیقی دنیا میں جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور سماجی تضحیک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ڈیجیٹل تشدد کوئی منفرد، الگ تھلگ مسئلہ نہیں۔ یہ اسی وسیع اور تلخ حقیقت کا دوسرا روپ ہے، جس کا سامنا ہندوستان میں خواتین ہر روز کرتی ہیں۔
چند چونکا دینے والے حقائق:
• 18 سے 49 سال کی ایک تہائی سے زیادہ شادی شدہ خواتین نے ازدواجی تشدد کا سامنا کیا ہے۔
• 49٪ خواتین اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار گھریلو یا شریکِ حیات کے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔
• ملک میں ہر 20 منٹ میں ایک عورت یا لڑکی جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہے۔ گزشتہ دہائی میں نابالغ لڑکیوں کے عصمت دری کے کیسز میں 336٪ اضافہ ہوا ہے ۔
• 18 سال سے کم عمر میں شادی کی گئی 67٪ لڑکیاں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔
• ہر روز 7,000 بچیاں رحمِ مادر میں ہی جنس کی بنیاد پر ختم کر دی جاتی ہیں۔ ہر تین میں سے ایک "گمشدہ لڑکی” کا تعلق بھارت سے ہے۔
یہ اعدادوشمار صرف نمبر نہیں؛ یہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، چیٹنگ ایپس، گیمنگ کمیونٹیز، اور آن لائن مارکیٹ ایپس یہ سب نئے خطرات کی آماجگاہ بن رہے ہیں-
• گرومنگ کے ذریعے لڑکیوں کا ذہنی استحصال
• تصاویر کو لیک کرکے بلیک میل کرنا
• جعلی آئی ڈیز کے ذریعے ہراسانی
• انسانوں کی اسمگلنگ میں آن لائن بھرتی
• مقام کا سراغ لگا کر تعاقب (ٹریکنگ / اسٹاکنگ)
• نفرت انگیز کمنٹس، باڈی شیمینگ، اور کردار کشی
آن لائن تشدد کی سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ یہ کبھی بھی، کہیں بھی ہو سکتا ہے اور اکثر متاثرہ کو پتا بھی نہیں چلتا کہ حملہ آور کون ہے۔
خواتین پر تشدد چاہے آن لائن ہو یا آف لائن اب ایک عالمی اور قومی ایمرجنسی ہے۔
ہم خاموشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ صرف حکومت، پولیس یا ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
خواتین کے لیے خود حفاظتی اقدامات :
• مضبوط پاس ورڈ اور ٹو اسٹیپ ویری فیکیشن کا استعمال
• نجی تصاویر اور معلومات کا شیئرنگ محدود کرنا
• سوشل میڈیا پر پرائیویسی سیٹنگز کا سخت استعمال
• کسی بھی غیر مناسب پیغام، ویڈیو یا بلیک میلنگ کو فورًا رپورٹ کرنا
• بچوں، خاص کر کم عمر لڑکیوں کو محفوظ انٹرنیٹ کے اصول سکھانا
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ:
• بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کھلی، اعتماد والی گفتگو
• بچوں کو سائبر سیفٹی کی تعلیم دیں
• آن لائن دوستیاں اور چیٹس پر گہری نظر رکھیں-
حکومت و ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی ذمہ داریاں
• سخت سائبر کرائم قوانین کا نفاذ
• جعلی آئی ڈیز کے خلاف مؤثر کارروائی
• متاثرین کے لیے فوری رسپانس سیل کی مضبوطی
• آن لائن ہراسانی کے کیسز پر تیز سماعت
ہماری سماجی ذمہ داری
• متاثرہ خواتین کو شرمندہ کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دینا
• نقصان دہ رویوں، لطیفوں، ذو معنی جملوں اور نفرت انگیز زبان کی حوصلہ شکنی
• ہراسانی کے واقعات دیکھ کر خاموش نہ رہنا
• کمیونٹی لیول پر سائبر سیفٹی ورکشاپس کا انعقاد
ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں عورت کی عزت، اس کا جسم، اس کی آواز اور اس کا ڈیجیٹل وجود سب خطرے میں ہیں۔ لیکن تبدیلی ممکن ہے
اگر ہم سب مل کر قدم اٹھائیں۔
اس 16 روزہ مہم کے موقع پر، ہمیں عہد کرنا ہوگاکہ :
ہم ایسی دنیا بنائیں گے جہاں ہر عورت، ہر لڑکی آن لائن اور آف لائن دونوں جگہ محفوظ، بااختیار اور باوقار زندگی گزار سکے۔
دعوت عمل : آج ہی قدم اٹھائیں!
• آن لائن ہراسانی دیکھیں؟ فوراً رپورٹ کریں خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے۔
• اپنی بیٹیوں، بہنوں اور طالبات کو سائبر سیفٹی کے بنیادی اصول ضرور سکھائیں۔
• نقصان دہ زبان، میمز، مذاق اور خواتین سے متعلق تضحیک آمیز آن لائن رویوں کی کھل کر مخالفت کریں۔
• سوشل میڈیا پر اپنی پرائیویسی سیٹنگز مضبوط کریں اور دوہری سیکیورٹی لازمی فعال کریں۔
• کمیونٹی، اسکولوں اور کالجوں میں سائبر سیفٹی آگاہی پروگرام شروع کریں یا اس میں شامل ہوں۔
• متاثرہ خواتین کا ساتھ دیں, انہیں شرمندہ نہ کریں، بااختیار بنائیں۔
• ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اداروں سے مطالبہ کریں کہ وہ خواتین و لڑکیوں کے لیے محفوظ پلیٹ فارمز یقینی بنائیں۔
آج، ابھی، اسی لمحے
ہم سب مل کر ایک ایسی دنیا بنا سکتے ہیں جہاں ہر عورت اور ہرلڑکی خوف، خاموشی اور تشدد کے بغیر، آزادی اور عزت سے جینا سیکھے۔
—–‐———-‐——————————–‐-