ڈاکٹر عاصم کو بدنام کرنے کی سازش کی حقیقت انجام کو پہنچ گئی۔
نارتھ ناظم آبادجیم خانہ کے حوالے سے ڈاکٹر عاصم حسین کوبدنام کرنے کی سازش۔
کراچی(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق نارتھ ناظم آباد جیم خانہ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک بے بنیاد خبر پر ممبران کا اظہار ناراضگی، سازشی عناصر کی کی جانب سے ڈاکٹر عاصم حسین کو بدنام کرنے کی سازش سامنے اگئی۔ رپورٹ کے مطابق نعیم الدین نامی شخص جو ایم کیو ایم کا سابق یو سی ناظم ھے اور نارتھ ناظم اباد جم خانہ کے الیکشن میں یونٹی گروپ کی جانب سے امیدوار بھی ہے جس کو موجودہ مینجمنٹ کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے عینی شاہدین کے مطابق وقوعہ کے روز تنویر احمد جو کہ انٹیگرٹی گروپ کے صدر ہیں اور نارتھ ناظم آباد جیمخانہ کا الیکشن جیتے ہوئے ہیں وہ شمیم صدیقی کے لکھے گئے خطوط کے جواب دینے کے لیے ایڈمنسٹریٹر آفس گئے اور کمرے کے باہر انتظار کر رہے تھے کہ اچانک شمیم صدیقی کے کمرے سے نعیم الدین نے نکل کر تنویر احمد سے دھمکی آمیز گفتگو اور گالم گلوچ شروع کر دی جس کے جواب میں تنویر احمد تحمل کے ساتھ اپنی کرسی پر بیٹھے رہے اور انہوں نے کہا کہ اپ کو اگر کوئی بھی شکایت ہے تو اس کا اظہار لکھ کر مہذب طریقے سے کریں لیکن وہ مسلسل دھمکاتے رہے ، اس دوران جیم خانہ کے ممبران اور اسٹاف بیچ میں آ کر نعیم الدین کو روکتے رہے جس پر نعیم الدین مارنے کی دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا اور اسی رات سات سے اٹھ لڑکوں کو لے کر تنویر احمد پر حملہ کرنے آیا جس کے 10 سے 15 لوگ عینی شاہد ہیں، ممبران کی وہاں موجودگی دیکھ کر نعیم الدین واپس چلا گیا اس واقعے کی تنویر احمد نے اگلے دن ہی متعلقہ پولیس اسٹیشن میں شکایت کر دی اور نعیم الدین کے خلاف واضح آڈیو ثبوت بھی انہیں فراہم کیے جس میں وہ تنویر احمد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہوا پایا گیا ہے۔ واقعے کو سیاسی رنگ دینے کے لیے اور اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لیے نعیم الدین نے ڈاکٹر عاصم حسین کا نام استعمال کیا جن کا نہ تو نارتھ ناظم آباد جیم خانہ کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی کوئی مداخلت کی ہے کیونکہ ڈاکٹر عاصم حسین کراچی بالخصوص ڈسٹرکٹ سینٹرل کی ایک معروف شخصیت ہیں اسی وجہ سے نعیم الدین نے ان کی شخصیت پر داغ لگانے کی مذموم حرکت کی جس کا بھانڈا وہاں کے ممبران نے اپنے بیان کے ذریعے پھوڑ دیا ، مزید یہ کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دینے سے وہاں کی انتظامیہ مسلسل گریزاں ہے اور پولیس کے مانگنے پر بھی فراہم نہیں کر رہے ہیں کیونکہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے نعیم الدین کا جرم واضح طور سے ثابت ہو جاتا ہے۔
