*ڈاکٹر جمیل جالبی فاؤنڈیش کے زیرِ اہتمام منعقدہ سمینار*
*”ڈاکٹر جمیل جالبی کی خدمات اور اردو زبان و ادب کا ارتقائی سفر”*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) معروف ادباء، شعراء اور اسکالرز نے ڈاکٹر جمیل جالبی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوۓ انہیں ایک نابغہِ روزگار شخصیت قرار دیا اور کہا کہ بطور وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی، انہوں نے اپنے دور میں بہترین خدمات انجام دیں اور بہترین اصلاحات نافذ کرکے ادب اور تعلیم کے ارتقائی سفر میں ایک سنگِ میل کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے اردو ادب کی تاریخ چار جلدوں میں لکھی اور مرتب کی، جو أج بھی اتنی ہی مستند ہے جتنی ان کی زندگی میں کار آمد تھی۔ ڈاکٹر فیاض وید نے صدارتی خطبے میں زور دیا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوۓ ادب اور زبان کے ارتقاء کے تسلسل کو جاری رکھا جاۓ۔ انہوں نے ڈاکٹر جالبی کی کتاب "ارسطو سے ایلیٹ تک” اور سید سبطِ حسن کی کتاب "پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء” کا حوالہ دیتے ہوۓ کہا ایسی کتابوں کے لکھنے میں بہت محنت اور تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض وید نے مزید کہا کہ ہر دور میں شاہکار کتابیں لکھنے اور پڑھنے کا رواج تھا، جو کہ اب ناپید ہو چکا ہے اور یہ اس عہد کا المیہ ہے۔ ڈاکٹر فیاض وید نے ڈاکٹر جمیل جالبی کے نام سے قائم کردہ فاونڈیشن کی تشکیل اور توسیع میں ان کے صاحبزادے ڈاکٹر خاور جمیل کی خدمات کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔ صاحب صدر نے تقریب کے انعقاد کیلئے محترمہ گلناز محمود کی کاوشوں کو تحسین کے الفاظ سے نوازا۔
مہمانانِ خصوصی زیب اذکار حسین اور پروفیسر شاہد کمال نے کہا کہ جو علمی کارنامے ڈاکٹر جمیل جالبی نے سر انجام دیئے، ان سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہئے۔
پروفیسر انیس زیدی نے کہا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کا شمار ان نابغہ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان میں علم و فن کی توسیع اور تعلیم کی ترقی میں قابلٍ قدر خدمات انجام دیں، جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مہمانانِ اعزازی پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ، ڈاکٹر نثار احمد نثار اور دیگر مقررین نے اس امر کا اظہار کیا کہ ہمارے علمی اداروں میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی اسپرٹ اور جذبے کی درست طور پر پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دبستانٍ جالبی کی ادبی اور تعلیمی روح کو سمجھ کر اس کے مطابق جدید طریقہِ تعلیم کو مروج کیا جاۓ۔ مجید رحمانی نے نہایت عمدگی سے نظامت کے فرائض ادا کئے اور ڈاکٹر جمیل جالبی فاؤنڈیشن اور ریسرچ لائبریری کی علمی سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی۔ مقررین نے گلناز محمود کو ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائیبریری میں بطورِ منتظم ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے کام اور خدمات کی نئی نسل تک ترسیل کیلئے "دبستان جالبی” کے پلیٹ فارم پر سوشل میڈیا کے توسط سے کی جانے والی گلناز محمود کی کاوشوں کا بھی تقریب میں حوالہ دیا گیا ۔
سیمنار کا انعقاد ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ فاونڈیشن کے نسیم شاہین آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ پروقار تقریب میں ادب اور تدریس کے شعبوں سے وابستہ احباب کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
