* ڈاکٹر جمیل جالبی ایک شخصیت نہیں، ادب کا طلسم کدہ تھے*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ڈاکٹر جمیل جالبی ایک شخصیت نہیں بلکہ ادب کا طلسم کدہ تھے۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ پنجاب میں شعبہ زبان و ادب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد کامران نے ڈاکٹر جمیل جالبی ایوارڈ کی دوسری سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ سنٹر میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں
ڈاکٹر جمیل جالبی کی خدمات کو پر تاثیر الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی نے ادب کی جو شمع روشن کی، اس سے جاری ہونے والا روشنی کا سفر مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ اردو دنیا میں قائم کردہ اولین ڈاکٹر جمیل جالبی چیئر کو جامعہ پنجاب کے لئے قابل فخر اعزاز قرار دیا۔ جامعہ پنجاب میں مذکورہ چیئر کے قیام کے لئے ڈاکٹر خاور جمیل، سابق چیئرمین ڈاکٹر ضیا الحسن اور سیکرٹری، ایوارڈ کمیٹی اور محمد نعیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے شاندار حروف تہنیت سے نوازا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی فاونڈیشن کے سرپرست ڈاکٹر خاور جمیل نے ایوارڈذ کے اجراء اور اس ضمن میں کی جانے والی کاوشوں کا مختصر اور جامع جائزہ پیش کیا، آپ نے تقریب کے مہمان خصوصی، آدم جی انشورنس کے ڈپٹی ایم ڈی جلال میگھانی کے تعاون کے لئے تشکر کا اظہار بھی پیش کیا۔ تقریب میں جامعہ پنجاب کے قائم ڈاکٹر جمیل جالبی چیئر کی چیئرپرسن ڈاکٹر عارفہ اقبال، معروف شاعر اور لندن یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر عقیل دانش نے اپنی تقاریر میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی بلند پایہ علمی شخصیت اور ان کی خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتامی مرحلے میں ایوارڈذ کے لئے نامزد اہل قلم، ڈاکٹر عقیل عباس جعفری اور انعام ندیم کو صدر گرامی کے دست مبارک سے سرٹیفیکٹ عطا کئے گئے اور تنزیلہ یوسف اور تنزیلہ احمد کو مشترکہ طور پر نامزد کیا گیا۔
جامعہ کراچی میں قائم، وسیع و عریض نسیم شاہین آڈیٹوریم میں منعقدہ اس پروقار تقریب میں ڈاکٹر معین الدین عقیل، پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی، پروفیسر صفدر علی انشاء، محترمہ گلناز محمود، وقار زیدی، محمد علی انور، نثار نقشبندی سمیت زبان و ادب اور تدریس و تحقیق سے وابستہ معزز مہمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
