ڈارک میٹر اینڈ ڈارک انرجی پراسرار کائنات۔
اکثر فلکیات دانوں کے مطابق ہماری کائنات کا زیادہ تر حصہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے، اور وہ ایسے مادے اور توانائی پر مشتمل ہے جو نہ دکھائی دیتا ہے اور نہ سُجھائی دیتا ہے۔ اس دکھائی نہ دینے والے پراسرار مادے کو ڈارک میٹر یعنی تاریک مادہ کہتے ہیں، اور اس سمجھ نہ آنے والی خفیہ قوت کو ڈارک انرجی یعنی تارک توانائی کہتے ہیں۔ سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق تاریک مادہ ہماری کل کائنات کا تقریباً 27٪ ہے اور تاریک توانائی 68٪ کائنات بناتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو کائنات ہمیں دکھائی دیتی ہے بلکہ دکھائی دینے کے قابل ہے وہ اصل کائنات کا محض 5٪ ہے۔ 95٪ کائنات ہماری نظروں سے اوجھل ہے اور ہم اس کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے۔ آئیے اس غیر مرئی پراسرار کائنات کی کھوج کے سفر پر روانہ ہوں۔
1930 میں، سوئس نژاد ماہر فلکیات فرٹز زوکی نے ‘کوما کلسٹر’ میں شامل ایک ہزار کے قریب کہکشاؤں کا مشاہدہ کیا۔ وہاں اس نے ایک عجیب مظہر کی نشاندہی کی۔۔۔ کہکشائیں انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کر رہی تھیں اور اپنی تیز رفتاری کی بدولت انہیں کلسٹر سے الگ ہونا چاہیے تھا، لیکن بوجوہ وہ ایسا نہیں کر پارہی تھیں۔ غالباً کوئی دکھائی نہ دینے چیز یا مادہ تھا جو یقیناً انہیں باندھے ہوئے تھا۔
کئی دہائیوں بعد، چند اور فلکیات دانوں، ویرا روبن اور کینٹ فورڈ، نے بھی کہکشاؤں میں ستاروں کی گردش کی رفتار کا مشاہدہ کرتے ہوئے اسی مظہر کا مشاہدہ کیا۔ حرکت کے تمام اصولوں کے مطابق کہکشاں کے کناروں پر واقع ستاروں کی گردش کی رفتار مرکز کے قریب موجود ستاروں کی رفتار سے آہستہ یعنی چاہیے لیکن ان تمام اصولوں کے برعکس کہکشاں کے کناروں پر واقع ستاروں کی رفتار باقی ستاروں سے کافی زیادہ تھی۔ وہ حیران تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے، کہکشاں کے کناروں پر موجود یہ ستارے کہکشاں سے نکل کیون نہیں پارہے۔ ان کی تیزرفتاری کی بدولت انہیں کب کا مرکز مائل قوت پر غالب آجانا چاہیے اور کہکشاں بدر ہو جانا چاہیے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہو رہا، اور مشاہدہ بھی یہی بتا رہا ہے تو غالباً کوئی ایسی چیز، کوئی ایسا مادہ کائنات میں موجود ہے جو ان ستاروں کو باوجود ان کی تیز رفتاری کے کہکشاں سے باہر نہیں نکلنے دے رہا، اور اپنی کشش کی بدولت انہیں کہکشاں کے مرکز کے ساتھ باندھے ہوئے۔ سائنسدانوں نے اس پراسرار مادے کا نام تاریک مادہ رکھ دیا، یعنی وہ مادہ جو دکھائی نہیں دے رہا لیکن اس کا اثر واضح طور محسوس ہو رہے ہیں۔
"حتیٰ کہ کناروں پر موجود ستارے زیادہ تیز رفتاری سے گردش کر رہے تھے۔” روبن نے ایک دفعہ انٹرویو دیتے ہوئے بتایا۔ "لازمی طور پر وہاں بہت بڑی مقدار میں مادہ ہونا چاہیے تھا جو ان ستاروں کو جوڑے ہوئے ہو، اور انہیں علیحدہ نہ ہونے دے، لیکن ایسا کوئی مادہ وہاں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔ اسی وجہ سے اسے ہم ڈارک میٹر یا تاریک مادے کے نام سے پکارتے ہیں۔”
فلکیات دانوں کے پاس اب کئی دوسرے ذرائع سے موصول ایسے شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈارک میٹر حقیقتاً موجود ہے۔
درحقیقت۔۔ ڈارک میٹر کا وجود اتنے وسیع طور پر تسلیم شدہ ہے کہ یہ اس ‘سٹینڈرڈ ماڈل آف کاسمولوجی’ کا بھی حصہ بن چکا ہے جو کائنات کی ابتداء اور ارتقاء کو سمجھنے کی سائنسی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔۔۔۔ جس کے بغیر ہم اپنے یہاں ہونے یعنی اپنے وجود کی سائنسی توجیہ بھی نہیں پیش کرسکتے۔
لیکن ان بلند بانگ دعووں نے فلکیاتی سائنسدانوں پر دباؤ بھی بڑھا دیا ہے کہ وہ ڈارک میٹر کے حقیقت ہونے کا ثبوت ڈھونڈیں اور ثابت کریں کہ ان کا کائناتی ماڈل درست ہے۔ لیکن دہائیوں تک جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے کی جانے والی تلاش و جستجو کے بعد بھی ڈارک میٹر کا مشاہداتی ثبوت ناپید ہے۔
اب آتے ہیں کائنات کے 68٪ حصے کی جانب یعنی ڈارک انرجی کی طرف۔ اس سے پہلے آپ نے پڑھا کہ ڈارک میٹر کائنات کو باہمی متصل یعنی باندھ کر رکھنے والا غیر مرئی مادہ ہے۔ یہ ایک کشش کی قوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ آپ اسے کائناتی سیمنٹ کہ لیں جو کائنات کو جوڑے اور باندھے ہوئے ہے۔ تو پھر ڈارک انرجی کیا کرتی ہے۔ ڈارک انرجی ڈارک میٹر کے برعکس کام کرتی ہے۔ یہ تاریک مادے کے برعکس کہکشاؤں کو پھیلانے یعنی ستاروں کو ایک دوسرے سے دور کرنے قوت کا نام ہے۔ ڈارک میٹر کو آپ ایک کائناتی سیمنٹ سمجھ لیں۔۔۔جو ہماری کائنات جوڑے اور باندھے ہوئے ہے، جو مادی اجسام کو تو جکڑے رکھتا ہے، لیکن یہ روشنی کو جذب، منعکس یا منعطف نہیں کرتا جس کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن ڈارک انرجی ایک دفع کی قوت ہے ۔۔۔ ایک طرح کی ضد کشش۔۔۔جو ہر لمحہ کائنات کے پھیلاؤ کو تیز تر کر رہی ہے، جو ستاروں اور کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے مسلسل دور لے جا رہی ہے۔ چلیں پہلے ڈارک انرجی کی دریافت پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔
تقریباً ایک صدی قبل سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ ہماری کائنات پھیل رہی ہے۔ دوربینیں بتاتی تھیں کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں، یعنی ماضی بعید میں وہ کبھی بہت قریب یا اکٹھی تھیں۔ یوں بگ بینگ کا نظریہ وجود میں آیا۔ بگ بینگ کے نظریے کے تحت سائنسدانوں نے حساب لگایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کم ہوتے چلے جانا چاہیے، کسی وقت یہ پھیلاؤ رکنا بھی چاہیے، اور آخرکار ستاروں اور کہکشاؤں کی باہمی کشش کے غلبے کے زیر اثر کائنات کو سکڑ کر بھنچ جانا ہے، اس نظریے کو ‘بگ کرنچ’ کا نام دیا گیا اور جو کائنات کا ممکنہ اختتام بھی گردانا گیا۔
کافی عرصہ سائنسدان اسی مفروضے یعنی بگ کرنچ کو مانتے رہے۔ لیکن گزشتہ صدی، نوے کی دہائی کے آخر میں یہ تصور بھی چکنا چور ہوگیا، جب فلکیات دانوں کی دو ٹیموں نے کائنات میں ایک ایسے مظہر کی نشاندہی کی جس کی کوئی توجیہ نہیں ہو پا رہی تھی۔ دور دراز کہکشاؤں میں سپرنوا کا مطالعہ کرنے والے تحقیق کاروں نے یہ دریافت کیا کہ کائنات کے مرکز سے بہت دور واقع کہکشائیں قریبی کہکشاؤں کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے ایک دوسرے سے فاصلے بڑھا رہی ہیں۔ مطلب۔۔۔ کائنات صرف پھیل نہیں رہی۔۔۔ بلکہ اس کا پھیلاؤ ہر لمحہ تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا، یہ تو فزکس کے تمام اصولوں کے خلاف تھا۔ اتنی بڑی کائنات ہر لمحے اپنے پھیلنے کی رفتار بڑھا رہی تھی، لیکن اس پھیلاؤ کے لیے بے پناہ توانائی درکار تھی، وہ یہ عظیم توانائی کہاں سے لے رہی تھی۔ بظاہر اس کا کوئی ماخذ نہیں تھا۔ لیکن یہ سب ہو رہا تھا، کائنات حرکت میں تھی، اور اپنا گیئر بڑھا رہی تھی، تو لازماً کوئی انرجی کوئی قوت وہاں موجود تھی جو یہ سب کروا رہی تھی۔ جو اس سارے پھیلاؤ کی ذمہ دار تھی۔ سائنسدانوں نے اس ان دیکھی قوت کو تاریک توانائی کا نام دے دیا۔ اگرچہ مشاہداتی ثبوت اس کا بھی ابھی موجود نہیں تھا، اور اس کی تلاش باقی تھی۔
تاریک توانائی پر اولین تحقیق کرنے والے ایک سائنسدان کے الفاظ:
"میرا اپنا رد عمل کسی حد تک حیرت اور خوف کے بین بین تھا۔”۔۔۔۔۔ "حیرت اس وجہ سے کیونکہ میں اس طرح کے نتیجے کی توقع نہیں کر رہا تھا، اور خوف کی وجہ یہ تھی کہ مجھے معلوم تھا کہ ممکنہ طور پر ماہرین فلکیات کی اکثریت اس بات پر یقین نہیں کرے گی۔۔۔ جو میری طرح غیر متوقع نتائج کو قبول کرنے میں انتہائی متردد بلکہ متشکک تھے۔” (ماہر فلکیات برائن شمٹ، 1998- نیویارک ٹائمز)
بہرحال دیگر ماہرین فلکیات و کونیات کے نئے مشاہدات نے ڈارک انرجی کے مفروضے کو اور بھی مستحکم کردیا ہے۔ بلکہ ڈارک میٹر کے چند نمایاں نقاد بھی اب تو ڈارک انرجی کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں۔
لیکن خیر کہانی ختم نہیں ہوئی۔ پردہ ابھی مکمل طور پر نہیں اٹھا۔ سائنسدان وثوق سے نہیں جانتے کہ ڈارک انرجی کیا ہے۔ وہ اس کی نوعیت کو بیان نہیں کر سکتے، لیکن کائنات میں اس کے کردار کو ضرور واضح کر سکتے ہیں، اور یہ سب آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مرہون منت ہے۔ آئن سٹائن بذات خود ڈارک انرجی سے باخبر نہیں تھا۔ لیکن اس کی مساواتیں اسے بتاتی تھیں کہ نئی سپیس وجود میں آسکتی ہے۔ اور اس نے محض اپنے نظریے کو سہارا دینے کے لیے نظریہ اضافیت کی مساوات میں ایک بھرتی کے کانسٹینٹ کا اضافہ کیا جسے کاسمولوجیکل کانسٹینٹ کہتے ہیں۔ یہ کانسٹینٹ صرف اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے تھا کہ کیوں کر یہ کائنات اندر کی جانب سکڑ یا بھنچ نہیں سکتی۔ یہ علیحدہ بات کہ آئن سٹائن اس کانسٹینٹ کے اضافے پر ہمیشہ افسوس کا اظہار کرتا رہا۔ اسے کیا پتہ تھا کہ جس چیز کو وہ ایک خامی سمجھ رہا ہے، مستقبل میں وہ کچھ نئے اور انوکھے انکشافات کی اساس بنے گی۔ آئنسٹائن بہرحال ی یقین رکھتا تھا کہ خلاء خالی نہیں بلکہ اس میں بے بہا انرجی موجود ہے۔
کچھ نظریاتی سائنسدانوں کے خیال میں نظر نہ آنے والے ذرات اور قوتوں کا ایک پورا جہان ہے، جو ابھی دریافت ہونا ہے۔ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کس چیز کے بھی بنے ہوں۔۔۔ ابھی معلوم نہیں، لیکن بظاہر کائنات میں وہ رسہ کشی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔۔۔ ایک ستاروں اور کہکشاؤں کو اندر کی جانب کھینچ رہا ہے تو دوسرا باہر کی جانب۔
By Ejaz Husain Abbasi
