*ڈاؤ یونیورسٹی میں تقرریوں پر سوالات — ڈی جی آڈٹ کی رپورٹ میں انکشافات*
*ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں سابقہ ادوار میں کی گئی بعض تقرریوں اور تعیناتیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں*
*ذرائع کے مطابق ڈی جی آڈٹ کی حالیہ رپورٹ میں بعض بھرتیوں کو ضابطے کے خلاف قرار دیا گیا ہے*
*جنہیں میرٹ اور قواعد و ضوابط کے برعکس انجام دیا گیا*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کی بدعنوانی بےضابطگیوں پر ڈائریکٹر جنرل آڈیٹر کی حالیہ جاری، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ تقرریاں ممکنہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر کی گئیں، جبکہ اسی دوران عام ملازمین پر سخت ضابطہ اخلاق نافذ کیا گیا، جس کے خلاف ورزی پر کارروائیاں بھی کی گئیں۔ تاہم بعض افراد کو، جو مبینہ طور پر بااثر یا سیاسی پشت پناہی رکھتے تھے، نہ صرف تحفظ دیا گیا بلکہ انہیں اہم عہدے اور اضافی مراعات بھی دی گئیں۔ کنٹریکٹ پر جونئیر ملازمین کو بھاری تنخواہیں و مراعات پر بھرتی کیا گیا ہے اور سینئیر ملازمین کو سائیڈ لائن کیا گیا۔ ڈاؤ یونیورسٹی میں میرٹ اور شفافیت کو دفن کرکے بھرتیاں اور ترقیاں کی گئی۔ سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر نااہل گھوسٹ جعلی ڈگریوں پر ملازمین کو بھرتی کیا گیا اور ترقیاں دی گئی۔ سنیارٹی لسٹیں اور پرموشن لسٹیں بھی جاری نہیں کی اور من پسند سفارشی ملازمین کو ترقیوں سے نوازا گیا ہے۔
یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے دس نومبر کو منظور شدہ قواعد کے تحت تمام ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی بھی رائے کے اظہار سے روک دیا تاہم، ذرائع کے مطابق چند ملازمین جنہیں گریڈ دو سے ترقی دے کر گریڈ گیارہ پر مستقل بنیادوں پر تعینات کیا گیا تھا، نے دورانِ ملازمت ہی بلدیاتی انتخابات میں لبیر کونسلر کی نشست کیلئے پارٹی فارم جمع کرایا۔ مزید برآں، انہوں نے یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر سیاسی قائدین کے ساتھ اپنی تصاویر والے بینرز بھی آویزاں کروائے، جو ادارے کے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کے برعکس ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مذکورہ ملازمین اپنی حیثیت اور تعلقات کے باعث قواعد و ضوابط کو خود پر لاگو نہیں سمجھتے۔ یاد رہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی پاکستان کے معروف طبی اداروں میں شمار ہوتی ہے، اور اسکی شفافیت اور میرٹ پر مبنی پالیسیز ہی اس کی ساکھ کا اہم جزو رہی ہیں۔ ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کا مطالبہ ہے کہ رپورٹ کی روشنی میں مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی بھی خلاف ضابطہ عمل کی تصدیق ہو، تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ ادارے میں میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جاسکے۔
