BBC Urdu TV

چیف جسٹس اور جمہوری حکومتوں کا مکروہ کردار

چیف جسٹس اور جمہوری حکومتوں کا مکروہ کردار

تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی

سنہ دو ہزار آٹھ سے جاری نام نہاد جمہوری حکومتوں میں سرکاری ملازمین کے جائز حقوق گروپ انشورنس کے سلسلے میں عدالتوں اور خاص کر عدالت عظمیٰ میں کیس دائر ھوئے۔لعنت ھو ایسی جمہوری حکومتوں اور چیف جسٹس پر کہ برسوں گزرنے کے باوجود چیف جسٹس ان کے حقوق دلا نہ سکے اور بد دیانت، بے ایمان، کرپٹ جمہوری حکومتیں دے نہ سکیں۔ سنہ دو ہزار آٹھ سے سنہ دو ہزار بائیس تک، اس طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود نجانے کتنے سرکاری ملازمین فریاد، التجا اور مطالبہ کرتے کرتے لحد میں اتر گئے مگر یہ جھوٹے، فاسق و فاجر، منافق اور خودغرض چیف جسٹس عمل درآمد نہ کراسکے۔ انشاءاللہ روز محشر سے قبل لحد میں یہ اپنا برا انجام ضرور پائیں گے۔ آصف زرداری کا دور اقتدار، نواز شریف کا دور اقتدار، عمران خان کا دور اقتدار اور اب شہباز شریف کا دور اقتدار رھا لیکن کسی نے بھی ان کے حقوق کی ادائیگی کیلئے رتی برابر بھی کردار ادا نہیں کیا۔ سب سے زیادہ لعنت خباثت اور غلیظ پن سندھ حکومت کے کرادر پر ھے کیونکہ یہ ستر سالوں سے جبراً، ناجائز، دھونس، دھمکی، دباؤ، جعلی ووٹنگ اور چور دروازے سے منتخب ھوتی چلی آرھی ھے اور ابتک پینشنرز کے پینشن میں پانچ سے صرف دس فیصد اضافہ کرکے سندھ پر احسان جتائے جبکہ دوسری جانب بھاری رشوت لیکر مہنگائی کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دی جاتی رھی ھے۔ یاد رھے سرکاری ملازم جب سروس شروع کرتا ھے تو اس کی اپنی تنخواہ سے گروپ انشورنس کی مد میں محکمہ مالیات و اکاؤنٹینٹ جنرل کے ذریعے حکومت کے اکاؤنٹ میں کٹوتی ھوکر جمع ھو جاتی ھے یہ معیاد یعنی دورانیہ ریٹائرڈمنٹ تک جاری رہتا ھے۔ اصولی و قانونی و اخلاقی و دینی اعتبار سے ریٹائرڈمنٹ کے وقت ہی حکومت دیگر ادائیگیوں کیساتھ گروپ انشورنس کی ادائیگی کرنے کی مجاز ھے مگر آج تک ایسا نہیں ھوا دوسرا یہ کہ سرکاری ملازمین سے بینیوینٹ فنڈ کے سلسلے میں بھی ہر ماہ تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ھے جس کے فوائد سرکاری ملازمین تک نہیں فراہم کیئے جاتے ھیں اور اگر دیا بھی جائے تو انتہائی مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ھے جا بجا رشوت طلب کی جاتی ھے اس بھاری رقم کو کوئی پوچھنے والا نہیں اور یہ اشرفیہ ان قومی دولت سے عیش و تعائش کرتے ھیں اسی لیئے اب پاکستانی عوام شدید نفرت کرتی ھے جمہوریت اور جمہوریت کے ٹھیکیداروں سے۔ ستر سالوں سے جمہور کے نام پر ملکی و قومی خذانے کو لوٹ گھسوٹ کا سلسلہ تا حال جاری ھے پورا ملک تباہ و برباد اور زبوں حالی کا شکار ھے اور عوام اب روز بروز عدالتوں کے کمزور احکامات اور جمہوری حکومتوں کی ہٹ دھرمی ضد اور بیغیرتی پر لعنت بھیج رھی ھے۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version