*چیئرمین مستقبل پاکستان کا کسان ڈے پر ملک کے محنت کش کسانوں کو سلام*
*شعبہ زراعت کو بے شمار مسائل کا سامنا،حکومتی توجہ کا منتظر ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی*
*زراعت جی ڈی پی کا تقریباً 23 فیصد فراہم کرتی اور37فیصد افراد کا روزگار وابستہ ہے:گفتگو*
*مستقبل پاکستان کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی:اظہار خیال*
*زراعت کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ روایتی کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے:چیئرمین*
*حکومت کسانوں کو جدید زرعی مشینری، معیاری بیج اور کھاد فراہم کرتے ہوئے فصلوں کی مناسب قیمت کی ضمانت دے*
( )چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے 18 دسمبر کسان ڈے پر کسانوں کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے محنت کش کسانوں کو حکومتی عدم توجہی کے باعث بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،کہنے کو تو پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر شعبہ زراعت پر وہ توجہ نہیں دی جارہی جو دینے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زرخیز زرعی رقبہ نا صرف بنجر ہوگیا ہے بلکہ غذائی بحران کے خطرات بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں،پاکستان کی زراعت جی ڈی پی کا تقریباً 23 فیصد فراہم کرتی ہے اور ملک کی کل لیبر فورس کے 37 فیصد افراد کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے اگر حکومت شعبہ زراعت کی بحالی پر توجہ دے اس سے جہاں کسان خوشحال ہوں گے وہاں ملکی معیشت بھی حقیقی معنوں میں ترقی کی منازل طے کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مستقبل پاکستان کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے خاموش نہیں بیٹھے گی بلکہ ہر فورم پر آواز بلند کرتے ہوئے انہیں حل کرانے کی ہر ممکن کوشش کو جاری رکھے گی۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان کی زراعت کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے تاکہ برآمدات میں مزید اضافہ ہو اور معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی، غیر معیاری بیج، کھاد کی عدم دستیابی اور مڈل مین کا بڑھتا ہوا کردار کسانوں کو ان کی محنت کا پورا صلہ حاصل کرنے میں رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ کسانوں کو جدید زرعی مشینری، معیاری بیج اور کھاد فراہم،فصلوں کی مناسب قیمت کی ضمانت دی جائے اور زراعت کے لیے خصوصی قرضے اور زرعی مداخل کی خریداری پر سبسڈی دی جائے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
18-12-2024
