چیئرمین مستقبل پاکستان کا ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران اور قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار
گیس کی قیمتوں میں پہلے ہی 6 سو فیصد تک اضافہ ہوچکا اور کتنا ہوگا:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
قیمتوں میں اضافے کے باوجود تیل اور گیس کے ادارے 710 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ تلے دبے ہوئے ہیں:چیئرمین
اگلے سال گھریلو صارفین کو 209 ملین کیوبک فٹ یومیہ گیس درکار ہوگی جس کی لاگت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوگی:گفتگو
پاک ایران گیس لائن منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل، تکمیل کیلئے سفارتی ذرائع کو بروے کار لانا ہوگا تاکہ گیس بحران کا خاتمہ ممکن ہو
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیل،گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اور کتنا اضافہ ہوگا،آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے عوام کو خودکشیوں پر مجبور کردیا ہے،گیس کمپنی کی جانب سے ایک سال میں تیسری بار قیمتوں میں اضافہ کا مطالبہ سمجھ سے باہر ہے جبکہ گیس کی قیمتوں میں پہلے ہی 6 سو فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود خسارے میں کمی نہیں آرہی،تیل اور گیس کے سرکاری ادارے اس وقت 710 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ تلے دبے ہوئے ہیں اور پاکستان ایل این جی پر سرکلر ڈیٹ کا بوجھ 142 ارب روپے ہے،ایک تخمینے کے مطابق اگلے سال گھریلو صارفین کو 209 ملین کیوبک فٹ یومیہ گیس درکار ہوگی جس کی لاگت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوگی ایسے حالات میں قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کہاں جاکر تھمے گا حکومت کو شاید اس کا اندازہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ گیس کمپنیوں کا خسارہ عوام پر بوجھ بڑھانے سے کم نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے حکومت کو گیس اور تیل کے نئے ذخائر کی تلاش کی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاک ایران گیس لائن منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس کی تکمیل کیلئے سفارتی ذرائع کو بروے کار لانا ہوگا تاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران میں کمی واقع ہو۔
