BBC Urdu TV

چیئرمین مستقبل پاکستان کا سپریم کورٹ میں مستقل ججز تعینات کرنے کا مطالبہ

چیئرمین مستقبل پاکستان کا سپریم کورٹ میں مستقل ججز تعینات کرنے کا مطالبہ

سپریم کورٹ میں ایڈہاک کی بجائے مستقل ججز تعینات کئے جائیں:انجینئرندیم ممتاز قریشی

مقدمات کی جلد شنوائی اورفوری انصاف کی فراہمی کیلئے ہائی کورٹس سے ججز کو تعینات کیوں نہیں کیا جارہا:گفتگو

انصاف میں تاخیر اور عدم فراہمی کی وجہ سے سٹریٹ جسٹس کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے:چیئرمین

افواج پاکستان اور عدلیہ سمیت دیگر قومی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ اور سیاست ملکی سلامتی کے منافی:اظہار خیال

سپریم کورٹ میں زیر التواء 25فیصد فوجداری مقدمات ہیں اور بعض کیسز کی باری توملزمان کے انتقال کے بعد آتی ہے

چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے ایڈہاک ججز کی تعیناتی کے فیصلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں اگر واقعی کمی ہے تو ایڈہاک کی بجائے مستقل ججز تعینات کئے جائیں اس سے جہاں اپوزیشن کا اعتراض ختم ہوگا وہاں اعلیٰ عدلیہ میں موجود زیر التواء مقدمات کی بروقت شنوائی اور فوری انصاف کی فراہمی میں بھی مدد ملے گی،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سپریم کورٹ میں سیاسی مقدمات کی بھرمار کی وجہ سے سول و فوجداری کیسزکی باری کئی کئی سال گزرنے کے بعد آتی ہے اور بعض کی شنوائی تو ملزمان کے مرنے کے بعد آتی ہے مگر اس کا مقصد ہر گزیہ نہیں ہے کہ غیر مستقل ججز کو تعینات کرکے اس کا حل نکالا جائے جبکہ ایسے متعدد جسٹس صاحبان ہائی کورٹس میں موجود ہیں جنہیں سپریم میں تعینات کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون و انصاف میں تاخیر اور عدم فراہمی کی وجہ سے سٹریٹ جسٹس کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کا پاکستان کسی طور بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ افواج پاکستان اور عدالتوں سمیت دیگر قومی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ ملکی سلامتی کے منافی ہے ان اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی بجائے انہیں اپنا کام کرنے دیا جائے تاکہ امن و امان کے قیام اور ملکی خوشحالی کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت و اپوزیشن کو قومی مسائل کے خاتمے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اگر وہ اسی طرح انا پرستی کے خول میں مبتلا رہے تو ملکی وقومی مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے

Exit mobile version