چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی صاحب نے ملک بھر میں آج ہونے والے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹری ٹیسٹ کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان کے ایک لاکھ 67 ہزار سے زائد طلبہ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے انٹری ٹیسٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔
سندھ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے زیر انتظام تقریباً 38 ہزار 700 طلبہ اس امتحان میں شامل ہو رہے ہیں، جن میں سے 13 ہزار طلبہ صرف کراچی کے ہیں۔ کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
بلوچستان کے حوالے سے چیئرمین صاحب نے بتایا کہ وہاں 5806 طلبہ بیوٹمز میں اپنے میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ دے رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے 42 ہزار سے زائد طلبہ اس امتحان میں شریک ہو رہے ہیں، جن کے لیے 8 اضلاع میں 13 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے پنجاب کے طلبہ کا بھی تذکرہ کیا، جہاں ہزاروں طلبہ اس امتحان میں حصہ لے رہے ہیں۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی شفافیت کے ساتھ امتحانات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاکہ تمام امیدواروں کو ایک منصفانہ اور بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔
انجینئر ندیم ممتاز قریشی صاحب نے امتحان میں حصہ لینے والے امیدواروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی طلبہ کی محنت، لگن اور عزم کا نتیجہ ہے، اور یہ ملک کی ترقی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو طلبہ اس امتحان میں کامیاب نہ ہو پائیں، ان کے لیے یہ پیغام ہے کہ ناکامی کو کبھی بھی آخری منزل نہ سمجھیں، بلکہ یہ آگے بڑھنے اور سیکھنے کا ایک موقع ہے۔ ہر طالب علم کے لیے دیگر فیلڈز میں بھی بے شمار مواقع موجود ہیں، اور کامیابی کی نئی راہیں ہمیشہ کھلی رہتی ہیں۔
آخر میں چیئرمین صاحب نے کہا کہ کوئی بھی ملک اچھی تعلیم، بہترین صحت اور محنتی طلبہ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے انٹری ٹیسٹ کے شفاف انعقاد اور بہترین انتظامات کے لیے امتحانی انتظامیہ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ تمام طلبہ اپنی تعلیمی میدان میں لگن اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں تاکہ ہمارا ملک ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرہ بن سکے۔
