چھٹیوں کی بھرمار ۔ تعلیم سے کھلواڑ
تعلیمی اداروں کی بندش ۔ ملک و قوم سے دشمنی۔
( ریاض چوھدری کے قلم سے)
یاد رکھیں قومیں تعلیمی اداروں میں بنتی ھیں ۔ اگر ھم تعلیمی اداروں کو بند رکھیں گے تو کیا ھم ملک اور قوم دشمنی نہیں کر رھے۔؟
ھمارے ملک کے محکمہ تعلیم اور انتظامی امور کے ارباب اختیار کہیں کچھ بھی ھو جائے فوری طور پر تعلیمی ادارے بند کر دیتے ھیں
سموگ کی وجہ سے دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں۔ بھٹے اور گندے تیل سے چلنے والی بھٹیاں بند کرنے کی بجائے سکول بند کر دیتے ھیں۔ کوئی ان عقلمندوں سے پوچھے کہ کیا ٹیچرز اور سٹوڈنٹس دھواں چھوڑتے ھیں یا تعلیمی اداروں میں دھواں چھوڑنے والے انجن چلتے ھیں۔
ابھی سردی کا کوسوں دور تک کوئی نشان نہیں۔ بڑا معتدل موسم ھے ۔ یہ موسم اتنا شدید نہیں کہ تعلیمی اداروں کی بندش کر دی جائے ۔
سال میں 52 ھفتے ھوتے ھیں۔ اگر ھفتہ اتوار سکول بند رکھیں تو 104 دن وہ ھو گئے ۔ گرمیوں کی چھٹیاں 75 سے 90 دن تک ھو جاتی ھیں۔ گزیٹیڈ اور پبلک ھالیڈیز جو لازمی اور اختیاری چھٹیاں 40 دن بن جاتے ھیں۔ دسمبر کی نارمل 10 چھٹیاں ۔ غیر متوقع حالات میں سکولوں کی بندش ( ملک میں احتجاج ھو ۔ جلسے جلوس ھوں۔ موسمی حالات شدت اختیار کر جائیں ) تو لگ بھگ 30 سے 40 دن تعلیمی ادارے بند ۔ یہ 250 سے 280 دن بن جاتے ھیں باقی 3 ماہ کا لگ بھگ تعلیمی سیشن بنتا ھے ۔
اب اھل دانش اور ارباب اختیار یہ بتائیں کہ پورے سال کا سلیبس ان بچوں کو کیسے ڈیلیور کیا جا سکتا ھے ۔
جب ان بچوں کے اذھان پر 3 گنا تعلیمی بوجھ ڈال دیا جائے گا تو یہ معصوم ذھن اس سے کیا سیکھ سکیں گے اور اساتذہ کرام اس نصاب کے ساتھ اور اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ کتنا انصاف کر سکیں گے ؟
ھم اپنے بچوں کو اتنے نرم و نازک سمجھتے ھیں کہ ان کو گھروں میں چھپا دیں۔
ھمیں انھیں ایک مظبوط اعصاب والا جفاکش محنتی اور حوصلہ مند انسان بنانا ھے ۔ اور اس کے لیئے موسم کی سختیاں بھی برداشت کرنے دیں۔
مادہ شاھیں جب اپنے بچے کو اڑنا سکھاتی ھے تو اسے اپنے پنجوں میں دبا کے 10 سے 12 ھزار فٹ کی بلندی پر لے جا کر فضا میں چھوڑ دیتی ھے۔ شاھین بچہ تیزی سے زمین کج طرف یا موت کی طرف سفر کر رھا ھوتا ھے زمین کے نزدیک پہنچ کر یا تو وہ زندہ رھنے کے لیئے اپنے پر کھول کر پھڑپھڑاتا ھے اور پرواز کرنا شروع کر دیتا ھے یا مادہ عقاب اسے اپنے پنجوں میں پکڑ کر پھر فضا کی بلندیوں میں لے جا کر پھر چھوڑ دیتی ھی جب تک وہ اپنے پر کھول کر اڑنا نہیں شروع کر دیتا
ھمیں اپنے بچوں کو اقبالؒ کے شاھین بچے بنانا ھے تو انھیں زمانے کی سختیاں برداشت کرنے کا عادی بنانا ھوگا۔ انھیں موسموں کی سختیاں برداشت کرنے کا عادی بنانا ھوگا۔
انھی بچوں نے ملک کی باگ دوڑ سنمبھالنی ھے۔ پاکستان کا مستقبل ان ھی بچوں کے ھاتھ میں ھونا ھے۔
سکول کھلیں گے تو اساتذہ کرام ان بچوں کو تعلیم دے سکیں گے ۔ پورے سال کا سلیبس پیریڈز میں بانٹ کے روزانہ تھوڑا تھوڑا ان کے اذھان میں بٹھانا ھے کہ پورے سال کا سلیبس سال کے چوتھائی حصے میں ان پر تھوپنا ھے۔
ایک اھم بات۔ کہ ان چھٹیوں میں بچے کیا کرتے ھیں۔ ؟
چھٹیوں میں بہت کم یا معدودے چند بچے ھی اپنی کتابوں کی طرف توجہ دیتے ھیں یا چند والدین ھی انھیں کتابیں کھولنے پر مجبور کرتے ھیں ۔ زیادہ تر بچے سنوکر کلب ۔ کیرم کلب ۔ شیشہ ھاوسز یا ایسی ھی سرگرمیوں کی طرف راغب ھو جاتے ھیں۔ اود ان سنوکر کلبوں۔ کیرم کلبوں وغیرہ کا ماحول ھم میں سے کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ھے ۔ وھاں گالم گلوچ۔ سگریٹ یا دوسری منشیات کا استعمال کھلے عام ھوتا ھے ۔ اس ماحول سے بچوں نے کیا سیکھنا ھے ۔اور آپ ایسی محفلوں میں رہ کر بچوں کو ان خرافات سے کیسے بچائیں گے۔ یہ اک لمحہ فکریہ ھے
