ایک بڑی درسگاہ
دارلعرفان منارہ
چکوال شہر کے جنوب میں 48کلومیٹر دور سنگلاخ پہاڑیوں کی سر زمین ونہار کی سرحد پر علم و عرفان کا ایک چھوٹا سا شہر آباد ہے۔ صدیوں پرانی اس گذرگاہ سے گاڑیاں اب بھی اِکا دُکا ہی گزرتی ہیں۔
چار دہائیاں قبل اس بے آب و گیاہ ویرانے سے سرگودھا تا راولپنڈی جانے والی بسیں بھی گھنٹوں بعد آتی تھیں کہ ایک مستقبل شناس انسان کو یہاں دینی و دنیاوی علوم کی شمع روشن کرنے کی سوجھی جس کا نام انہوں نے دارلعرفان تجویز کیا تھا۔
علاقہ ونہار کے اس ویرانے میں منارہ کے قریب علم و عرفان کا شہر آباد کرنے کا سہرا شیخ المکرم مولانا محمد اکرم اعوان ؒ کے سر ہے۔ مولانا محمد اکرم اعوان ؒ خود تو 7دسمبر 2017ءکی رات اس جان فانی سے کوچ کر گئے مگر ان کی یہ درسگاہ نجانے کب تک تشنگانِ علم کی پیاس بجھاتی رہے گی۔
اب تک یہاں سے ہزار وں طلباءو طالبات مستفید ہو چکے ہیں اور اسی ”دارالعرفان“ کے بانی کے ویژن کے مطابق ملک و ملت اور دین کی ترقی و سرفرازی کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
مولانا محمد اکرم اعوان ؒ خود ایک طلسماتی شخصیت تھے۔ ادیب اور عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ تصوف کی دنیا کے بھی شاہ سوار تھے۔
مولانا محمد اکرم اعوان تصوف کے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے روحانی پیشوا تھے اب اُن کے صاحبزادے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی اس کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔
مولانا محمد اکرم اعوان نے قریباً186تصانیف چھوڑی ہیں جن میں 9شعری مجموعے بھی شامل ہیں۔انہوں نے قرآن کا ترجمہ اور تفسیر بھی لکھی اور کتب تصوف کی شرح بھی لکھی۔ اُن کی ذاتی لائبریری میں دس ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔اردن کے ایک معتبر ادارے نے انہیں 500بااثر مسلم شخصیات میں بھیسشامل کیا ہے۔
”دارلعرفان منارہ“ مولانا محمد اکرم اعوان کا خواب تھا جو اُن کی زندگی میں ہی پورا ہو کر اپنا پیغام ملک بھر دنیا بھر میں پھیلا رہا ہے۔ دار العرفان نے عصرِ حاضر کے تقاضوں کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے تعلیم و تربیت کا باقاعدہ نظام ترتیب دے رکھا ہے اس تعلیم و تربیت کے دوران نہ صرف دینی و روحانی علوم سے آگاہ کیا جات اہے بلکہ سالکین کو دنیاوی تقاضوں سے عہدہ برآ کی بھی تیاری کرائی جاتی ہے۔یہاں زیر تعلیم اور زیر تربیت طلباءو طالبات کو اسلامی اصولوں کے مطابق ایک فعال اور باکردار زندگی گزارنے کے لیے تیار کی اجاتا ہے تاکہ امت مسلمہ کے نشاةِ ثانیہ کے لیے کردار ادا کیاجا سکے۔
چکوال کی اس بڑی اور اہم دینی و دنیاوی درسگاہ دارلعرفان میں ایک پورا جہاں آباد ہے۔ قریباً بیس ایکڑ کے رقبے پر پھیلی اس عمارت کی بنیاد1978ءمیں رکھی گئی تھی۔ابتدائی طور پر یہاں تصوف، فقہ اور حفظ تعلیم کیے جاتے تھے۔ 1987ءمیں صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے یہاں آکر جدید طرز تعلیم کے ادارے صقارہ اکیڈمی کا باقاعدہ افتتاح کیا جس میں پرائمری سے بی اے تک طلباو طالبات کو سائنسی اور دیگر دنیاوی علوم سے روشناس کرایا جاتا ہے۔
حال ہی میں یہاں صلہی(SALHi)صقارہ ٹریننگ ہب انٹرنیشنل کے نام سے اے اور او لیول کی تعلیم کے لیے ادارے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جو کامیابی سے اپنا سفر طے کر رہا ہے۔ دار العرفان کے ان تعلیمی و مذہبی اداروں میں ملک بھرسے طلباءطالبات علم حاصل کرنے آ رہے ہیں اور ضرورت مند طلباءو طالبات کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا بھی اہتمام ہے۔
ان تمام دینی و دنیاوی تعلیمی اداروں کی مختلف شاخیں ملک کے مختلف بڑے شہروں میں شروع کی گئی ہیں اور اس کے مختلف ذیلی ادارے دنیا بھر میں بھی قائم ہیں۔ دارلعرفان نے اب تک سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی بے شمار کتب، قرآن کے تراجم اور تفاسیر، کتب شرح، سوانح حیات، سفرنامے، شعری مجموعے، کتب ِ تصوف، تحقیقاتی کتب اور تربیتی کورسز کی کتب کی اشاعت کا بھی اہتمام کیا ہے اور یہاں اس کا باقاعدہ شعبہ قائم ہے۔
ماہنامہ”المرشد“ بھی باقاعدگی سے ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوتا ہے۔
الفلاح فاﺅنڈیشن انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے متحرک ہے۔
شعبہ خواتین”الاخوات“ 1996ءمیں قائم کیا گیا تھا۔
ہر سال جون سے اگست تک ہونے والے 40روزہ سالانہ اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ لوگوں کی شرکت ہوتی ہے۔
دارالعرفان کی خوبصورت اور جدید مسجد میں پانچ ہزار سے زائد نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے عین سامنے احاطے میں بانی حضرت مولانا امیر اکرم اعوان ؒ کا مزار ہے۔ یہاں لائبریری، کمیونٹی ہوم(دارا)،صقارہ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول، صقارہ لرننگ ہب انٹرنیشنل(صلہی)، دارالحفاظ، دواخانہ، عجائب خانہ، ہاسٹل، لنگر خانہ، کیفے ٹیریا اور رہائشی مکان بھی موجود ہیں۔
اس وسیع و عریض ایریا میں دارالعرفان کی تزئین و آرائش کے لیے پودے بھی پھل دار اور پھول دار اور سایہ دار موجود ہیں اور مختلف پالتو جانوروں اور پرندوں کے لیے بھی جگہ مختص ہے۔ ادارے میں سینکڑوں رضا کار اور ملازمین بھی ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔ مولانا محمد اکرم اعوان ؒ کا لگایا یہ پودا اب تناور درخت بن چکا ہے جس کے ثمر سے ہزار ہا افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
