BBC Urdu TV

چارسدہ کی مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں غم و غصہ کی شدید لہر۔

چارسدہ کی مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں غم و غصہ کی شدید لہر۔

صوبائی حکومت سے جوکر وائس چانسلر کو برخواست کرنے کا پرزور مطالبہ۔

چارسدہ(نمائندہ خصوصی)فخر افغان باچا خان کے نام پر بننے والی ضلع چارسدہ کی اکلوتی یونیورسٹی باچا خان یونیورسٹی میں تین دن قبل ہونے والی استقبالیہ پارٹی میں مشہور گلوکار بختیار خٹک کو ہال میں میوزک شو کے لئے مدعو کیا گیا۔ پارٹی میں منیجمنٹ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر کامران جن کا تعلق بھی ایک بھانڈ خاندان سے یے اور جوکر وائس چانسلر ڈاکٹر زاہد حسین بھی موجود تھے۔ ان دونوں کی موجودگی میں بختیار خٹک کے گانوں پر طلبہ و طالبات نے یونیورسٹی کے مین ہال میں مخلوط رقص شروع کیا اور نہ صرف پختونوں کی غیرت کا جنازہ نکالنے کی کوشش کی بلکہ ان تھرکتے ہوئے طلبہ و طالبات کو ہال کی دیواروں پر نصب شہدائے باچا خان یونیورسٹی کے ان اٹھارہ افراد کی تصویروں اور ان کے اہلخانہ سے بھی شرم نہیں آئی۔ فرط جزبات میں جوکر وائس چانسلر نے تو کوشش بھی کی کہ کسی طالبہ کو ڈانس پارٹنر بنالے لیکن عملے میں سے کسی ایک فرد نے اسے ٹوکا کہ ایسا کرنے سے رہی سہی عزت بھی جاتی رہے گی کیونکہ جوکر وائس چانسلر پہلے ہی خاتون ٹیچر اور کنٹرولر کی وجہ سے گھر والوں کی طرف سے شک کی نظروں میں ہے۔وزیراعلٰی اور گورنر صاحب سے درخواست ہے کہ والدین کی طرف سے بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے سے پہلے اس جوکر کو ہٹا کر ڈاکٹر سلیم شاہ یا ڈاکٹر خالد سعید جیسے معزز اور ایماندار افراد میں سے کسی ایک کو پرووائس چانسلر مقرر کیا جائے اور اس کرپٹ اور اخلاق باختہ جوکر وائس چانسلر سے یونیورسٹی کے طالبات اور خواتین ملازمین کو بچایا جائے ورنہ چارسدہ کے عوام اپنی غیرت کا بدلہ لینا جانتے ہیں۔

Exit mobile version