BBC Urdu TV

پیٹرول_اور_ڈیزل_میں_فرق

پیٹرول_اور_ڈیزل_میں_فرق!

پیٹرول، جسکو امریکہ میں گیسولین کہتے ہیں۔ایک ھائیڈروکاربن ہے اور ڈیزل بھی ایک ھائیڈروکاربن ہوتا ہے۔
پیٹرول کا جنرل فارمولا
2,2,4-trimethylpentane
یعنی یہ ایک ایسا ھائیڈروکاربن ہوتا ہے، جس کے ایک مالیکیول میں پانچ ھائیڈروکاربن ایک سیدھی قطار میں جبکہ تین کاربن برانچ بناکر علیحدہ ہوتے ہیں (یعنی آٹھ کاربن ایک مالیکیول میں) اسکا کیمیائی مالیکیولز فارمولا C₈H₁₈ ہوتا ہے اور اسکا مالیکیولر وزن 114 a.m.u ہوتا ہے۔
جبکہ ڈیزل بھی ھائیڈروکاربن ہوتا ہے۔ دو طرح کا ڈیزل مارکیٹ میں میسر ہے۔ ایک لائیٹ ڈیزل کہلاتا ہے اور دوسرا ھیوی ڈیزل۔ لائیٹ ڈیزل کا کیمیائی فارمولا
C₁₂H₂₂
ہوتا ہے جبکہ ھیوی ڈیزل کا کیمیائی مالیکیولز فارمولا
C₁₄H₂₄
ہوتا ہے۔ لائٹ ڈیزل کا مالیکیولی وزن 166 a.m.u اور ھیوی ڈیزل کا کیمیائی مالیکیولی وزن 192 a.m.u ہوتا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کے مالیکیولی فارمولے اور وزن کے مقابلہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیٹرول، ڈیزل کے مقابلے میں ایک ہلکا اور چھوٹا مالیکیول ہے جبکہ ڈیزل ایک بھاری اور لمبا مالیکیول ہے۔ جب ایک ھائیڈروکاربن کو آکسیجن کی موجودگی میں جلایا جاتا ہے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ CO₂ اور پانی H₂O میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور ساتھ میں حرارت کی اچھی خاصی مقدار بھی خارج ہوتی ہے۔ یہ خرارت کی خارج ہونے والی مقدار، مالیکیول کے وزن اور کاربن ایٹم کی تعداد پر منحصر ہے۔ جتنے زیادہ کاربن ایٹم، اتنی زیادہ حرارت خارج کریں گے جب انکو جلایا جائے۔ اس کا مطلب یہ پیٹرول جلنے پر کم حرارت دیتا ہے اور ڈیزل زیادہ دیتا ہے اور جو ایندھن زیادہ حرارت دے گا وہ کسی گاڑی کے انجن کو تیزی سے چلا بھی سکتا ہے۔ پیٹرول ہلکی گاڑیوں میں اسی لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ انکا انجن ہلکا ہوتا ہے اور وہ کم طاقت کے استعمال سے چل جاتے ہیں، جیسے کار، موٹر سائیکل وغیرہ۔ جبکہ بھاری گآڑیوں کے اندر انجن بھی بڑی ھارس پاور کا بھاری لگتا ہے، جیسے ٹرک، بس، یا پھر جیپ وغیرہ۔ تو انکے انجن کو چلانے کے لیے ایک ایسا ایندھن چاہئے جو زیادہ حرارت پیدا کرے۔ اس لیے ان کے لیے ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے۔

#ڈیزل_کو_آگ_نہیں_لگتی_اس_کی_کیا_وجہ_ہے ؟

اسکا جواب بھی اسکے بھاری مالیکیول میں چھپا ہوا ہے۔ پٹرول چونکہ بہت ہلکا ہوتا ہے اور اسکا بوائلنگ پوائینٹ بھی ڈیزل سے بہت کم ہوتا ہے، اس لیے وہ بہت جلد، عام درجہ حرارت اور عام دباو پر وہ بخارات میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جسکی وجہ سے اسکو آکسیجن سے ریکشن کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ جبکہ ڈیزل کا مالیکیول بھاری ہونے کے سبب ایک تو اسکا بوائلنگ پوائینٹ کافی ہوتا ہے اور دوسرا اسکا بخارات بننے کی شرح rate of evaporation بہت کم ہوتی ہے، جسکی وجہ سے اسکے بخارات ہوا میں کم اڑتے ہیں اور وہ کم ہوا میں مکس ہوتا ہے۔ اس لیے یہ آگ در سے یا نہیں پکڑتا۔ انجن میں چونکہ ڈیزل کو ایک خاص دباؤ سے ڈالا جاتا ہے جسکی وجہ سے پریشر کے سبب اسکا بخارات بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور وہ جلدی آکسیجن میں جلنے کے سبب آگ پکڑ کر انجن کو چلانے میں مدد دیتا ہے

Exit mobile version