BBC Urdu TV

پہلگام میں رابطے منقطع اور پاکستان پر فوری الزام، بیانیے پر اٹھ رہے سوالات

پہلگام میں رابطے منقطع اور پاکستان پر فوری الزام، بیانیے پر اٹھ رہے سوالات۔

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق دوپہر کے اوقات میں قابض جموں و کشمیر کے پہلگام سے تقریباً 6.4 کلومیٹر دور رابطے اچانک منقطع ہوئے، اور چند ہی منٹوں میں بھارتی سوشل میڈیا کے تمام محاذ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے پر متفق ہو گئے۔ حکومتی بیان میں دورِ حاضر کی جارحانہ حکمتِ عملی کے تحت شبہات کو بھڑکانے اور عوامی توجہ بٹانے کی کوشش کی گئی، جس پر مبصرین نے شفاف تفتیش کے بغیر عجلت میں لگائی گئی اسینشین پر سوال اٹھا دیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ لائن آف کنٹرول کے اطراف “فیک انکاؤنٹرز” کا سلسلہ کلی طور پر حکومتی بیانیے کے فروغ کا حصہ ہے، جہاں بے گناہ شہریوں کو سرکاری تصدیق کے بغیر دہشت گردی کے شبہ میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ سری نگر کے فضائی اڈے سے مبینہ اسرائیلی جہاز کی غیر رسمی پرواز اور تکنیکی ساز و سامان کی فراہمی کی اطلاعات نے بھی صورتحال کو پیچیدہ کر دیا ہے، جبکہ بارودی سرنگوں کی کالز کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے زیرِ نگرانی نیٹ ورکس سے ٹریک کیے جانے کا دعویٰ مزید شکوک کو جنم دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں بھارت نے اہم سفارتی ملاقاتوں یا اندرونی سیاسی کشیدگی کے دوران دہشت گردانہ واقعات کو بروقت وقوع پذیر کر کے میڈیا میں یکطرفہ تفتیشی رپورٹس چلوانے اور پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کا ایک تسلسل برقرار رکھا۔ 2000 میں صدر کلنٹن کے دورے کے دوران مبینہ “ناکام حملے”، 2008 کے ممبئی دھماکے، 2016 کے اوری و پاٹھانکوٹ آپریشنز اور 2019 کا پلوامہ–بالاکوٹ تنازعہ اسکرپٹ کا حصہ رہے، جہاں ہر بار سرکاری ذرائع نے فوری طور پر پاکستان کو قصوروار ٹھہرا کر سخت ردِ عمل کی درخواست کی۔

نیوز رپورٹس کے مطابق پہلگام کا یہ واقعہ اسی حکمتِ عملی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد حکومت کی ناکامیوں پر عوام کا غصہ قومی یکجہتی کے نام پر دبانا اور 1960 کے انڈس واٹرز ٹریٹی میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ پانی، جو کہ دونوں ممالک کے کسانوں کی معیشت کا مرکز ہے، کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا عمل خطے میں وسیع انسانی بحران کو دعوتِ عمل دیتا ہے۔

سکیورٹی ماہرین نے بھارتی فوج کے اندر بڑھتے ہوئے سیاسی رجحانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں کہا جاتا ہے کہ مسلح افواج میں پیشہ ورانہ غیرجانبداری کے بجائے بی جے پی کے سخت موقف کی تائید کرنے والی آوازیں غالب آ رہی ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا ایک منظم فوجی ادارہ جھوٹے پرچم کے آپریشن کو منطقی قرار دے کر پاکستان کے خلاف کارروائی کا جواز پیدا کرنے میں حصہ لے سکتا ہے؟

تاریخی پس منظر میں پلوامہ واقعے کے بعد ابتدائی انکار اور بعد کی باقاعدہ وضاحتی بیاں بازی نے حقائق کو دھندلا دیا، اور بالاکوٹ فضائی حملے کو “مناسب جواب” قرار دے کر تناسب سے تجاوز کی گئی۔ ساتھ ہی جعلی این جی اوز، جھوٹے ویب سائٹس اور مصنوعی ویڈیوز نے اطلاعات کو مسخ کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے سچائی تک رسائی مشکل ہو گئی۔

ان تمام واقعات کے پیشِ نظر مبصرین کا کہنا ہے کہ پانی کی ترسیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی بھی قوم کے لیے جنگ کے مترادف ہے۔ پاکستان اپنے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، اور ہر قطرہ محفوظ رکھنے پر تیار رہے گا، کیوں کہ خطے کی بقاء دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

آزادیِ صحافت اور شفاف تفتیش کے بغیر کسی بھی سرکاری بیان کو بلاجواز قبول کرنا جماعتوں، میڈیا اور عوامی شعور کے لیے خطرناک ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کیسز کی آزاد، بین الاقوامی سطح پر روبرو تفتیش ہوگی، یا سرکاری بیانیے کی پیروی جاری رہے گی؟ شفافیت، دستاویزی شواہد اور اصولی صحافت ہی واحد راستہ ہیں جس سے خطے میں دیرپا امن کا امکان باقی رہ سکتا ہے۔

Exit mobile version