پنڈدادنخان : وطن عزیز میں ٹیلینٹ کی کمی نہیں ہر سال سینکڑوں بچے مختلف شعبوں میں ڈگریاں وصول کر رہے ہیں
اس کےباوجود پاکستان زبوں حالی کا شکار کیوں ہے۔ ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن راولپنڈی۔ پروفیسر مختار احمد۔ وہ بدھ22 مئی 2024 اسلام آباد کنوینشن سنٹر میں نمل NUML. یونیورسٹی اسلام کی طرفسے انعقاد کیۓ گیۓ 23 ویں کانووکیشن کے موقع پر گریجوایٹس سے خطاب کر رہے تھے وہ اس پروگرام کے مہمان خصوصی تھے ریکٹر نمل یونیورسٹی میجر جنرل (ر) شاہد محمود کیانی بھی اس پروقار تقریب میں موجود تھے 842 گریجوایٹس کو مختلف کیٹگریز جنمیں پی ایچ ڈی۔ ایم فل۔ ماسٹرز۔ بی ایس سی ایس کی ڈگریوں سمیت گولڈ میڈلز بھی ایوارڈ کیۓ گیۓ راقم الحروف کی بیٹی انمول زہرہ کو بھی BSCS کی ڈگری ایوارڈ کی گئی اس موقع پر تمام گریجوایٹس کے والدین کو ریکٹر نمل یونیورسٹی اسلام آباد کی طرفسے مدعو کیا گیا تھا تقریب کا باقاعدہ آغاز کلام پاک سے ہوا اور قومی ترانے کے بعد ایوارڈز کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا اس دوران ایک لمحہ ایسا آیا کہ۔تمام شرکاء تقریب کی آنکھیں نم ہو گیئں جب ایک گریجوایٹ بچی کی جگہ اسکی بہن اسکی حاصل کردہ ڈگری وصول کرنے آئی کیونکہ وہ خود اس جہان فانی کو خیر باد کہہ چکی تھی تمام گریجوایٹ سٹوڈنٹس نے اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو کر کافی دیر تک مرحومہ کے اعزاز میں تالیا ں بجا کر اسے دعائیہ خراج پیش کیا چیف گیسٹ ڈائریکٹر ایچ ای سی (HEC) اسلام آباد پروفیسر مختار نے ڈگریاں حاصل کرنیوالے گریجوایٹس سے خطاب میں کہا کہ آج آپکی زندگی کا اہم ترین دن یے جس کی خاطر تمھارے والدین نے اپنی کئی جائز خواہشات کا گلا گھونٹ کر آپکی تعلیمی ضروریات کو پورا کیا اپنے روشن مستقبل میں والدین سمیت اساتذہ کی اقدار کو کبھی نہ بھلانا ہاں اگر زندگی میں کبھی ایسے مقام پر پہنچ جاؤ جہاں پر تم کچھ کر سکو تو اپنی مادر علمی یعنی یونیورسٹی کی فلاح کیلۓ ضرور اقدام کرنا اور اپنے ملک کی بقاءکیلۓ ہر ممکن کوشاں رہنا
رپورٹ : عمران حیدر ببلی۔
