پنجابی کلچر ڈے ملیر کوٹ باز روم میں منایا گیا
سابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ سندھ نے انجینئر محمد پرویز آرائیں نے بھی شرکت کی
کراچی(رپورٹ:عاصم آرائیں جہلمی)
14 اپریل 2025ء بروز پیر کو انجینئر محمد پرویز ارائیں، سابق معاون خصوصی، وزیر اعلیٰ سندھ نے میاں
مطیع الرحمٰن ارائیں اور جناب محمد شاہد ارائیں کے ہمراہ پنجابی ثقافتی دیہاڑ (Punjabi Culture Day) منعقدہ بار روم ملیر کورٹس، کراچی میں شرکت کی۔ وکلاء سمیت پنجابی برادری کے مختلف مکتبہ فکر کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بار روم کھچا کچھ بھرا ہوا تھا اور متعدد سامعین کھڑے ہو کر پروگرام کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہے تھے۔
مقررین نے پنجابی ثقافت کو اجاگر کیا اور ملک بھر کے چپے چپے پر پنجابیوں کی متعلقہ علاقے کی ثقافت اور رہن سہن کے مطابق اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا ہوا ہے۔ سندھ بھر میں پنجابیوں نے ریگستانوں، صحراؤں، جنگلات اور بیابانوں کو اپنے خون و پسینے سے آباد کر کے سبز انقلاب برپا کیا۔ آج بھی سندھ کے دیہاتوں میں شیشم، نیم، پیپل اور بوہڑ کے قد آور درختوں پر مشتمل جھنڈ پنجابی برادری کی گوٹھوں کی نشانی ہیں۔
اس موقع پر مہمانان گرامی اور معزز وکلاء و سامعین کو پنجابی کلہ اور پگڑی پہنائی گئی جب کہ خواتین کو دوپٹے اوڑھائے گئے، جس نے پروگرام کو چار چاند لگا دئیے۔
پنجابی برادری نے زراعت کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی اپنی محنت سے نام پیدا کیا ہے۔ صنعت و تجارت میں اپنی مہارت سے کاروبار کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں مقامی برادریوں کے ساتھ گل مل کر بھائی چارے اور یگانگت کا ثبوت دیا ہے۔ پنجابی مقررین نے پنجابی صوفیاء کی شاعری سنا کر سامعین کی گرم جوشی میں اضافہ کیا۔
پنجابی کلچر ڈے کے حوالے سے ملیر بار کے جنرل سیکریٹری اور صدر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پنجابی ثقافتی دیہاڑ منانے کو مختلف زبانیں بولنے والوں کو محبت اور اخوت کا بھرپور پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی برادری نے سب اپنے آپ کو مقتدرہ (Establishment) سے علیحدہ کرنا شروع کیا ہے، جس کے نتیجے میں پنجابی کے خلاف پیدا شدہ نفرت کو دور کرنے کا موقع ملے گا۔
بہترین اور کامیاب پروگرام منعقد کرنے پر منتظمین اور ملیر بار کے عہدے داران مبارک باد و تحسین کے حق دار ہیں۔ ملیر بار کے عہدے داران کی طرف سے منتظمین پروگرام اور شرکاء کا دل اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا گیا۔
پروگرام میں دو قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ ایک دریائے سندھ پر بننے والی چھ نہروں کا کام فی الفور روکا جائے اور دوسری قرارداد کے مطابق سکھر تا حیدرآباد (ضرورت سکھر تا کراچی کی ہے) موٹروے کی تعمیر جلد از جلد شروع کی جائے۔
