BBC Urdu TV

پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو (البقرہ 152 )

یاد اور شکر
تحریر ۔ امیر عبدالقدیراعوان

پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو (البقرہ 152 )
ذکر کے معنی تذکرہ بیان اور زبان و دل سے اللہ کی یاد کے ہیں یاد فعل ہی دل کا ہے جب زبان اللہ کریم کی حد و ثنا کرتی ہے تو اسے اس لیے ذکر کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ دل کی ترجمان ہوتی ہے گویا وہ کہہ رہی ہے جو کہنے والے کے دل میں ہے اسی طرح عملا اللہ تعالی اللہ تعالی کی فرمانبرداری بھی ذکر کے زمرے میں ا کر یوں عملی ذکر کلاتی ہے کہ عموما ہم وہ کرتے ہیں جو دل کرواتا ہے لیکن زبان و عمل دونوں میں دکھاوا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے جبکہ دل میں جو ہوگا وہ اصل ہوگا لہذا ذکر حقیقی ویو ہوگا جو دل سے ہوگا دل میں اللہ کی یاد دل سے اس کے لیے پکار حقیقت میں اس کا ذکر کہلائے گی۔
قران پاک میں ہے
اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں یاد کریں عاجزی اور خوف سے (الاعراف 205)
قارئین کرام ایک ذرہ بےمیہ خالق کل کائنات کا کیوں کر یاد کرتا ایک محتاج و بے نواب مختیار کل کا ذکر کیسے کرتا مخلوق اپنے خالق کو کیسے پکارتی یہ اس کی شان کریمی ہے کہ اس کا طریقہ اس سلیکہ بھی سمجھا دیا ۔
اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کریں (المزمل 8)
یہاں اسم ربک نے سمجھا دیا کہ اللہ اللہ کرو قلب کی گہرائیوں سے اللہ اللہ۔(اور سب سے یکسو ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جائیں) ہر چیز سے بے نیاز ہو کر جہاں میں رہتے ہوئے الگ جہاں بسا لو نیا خانہ دل میں لفظ اللہ یوں جذب ہو کر لو کہ رگ و پے میں اس کا ذکر اترے ہر زر بدن اس نام سے یوں اشنا ہو جائے کہ کوئی حزب بدن حکم الہی سے سر موانحراف کی سکت نہ پائے۔یوں یہ سقالۃ القلوب بندہ کو قد افلح من تزکی(
الاعلی 14) جو پاک ہوا یقینا وہ مراد کو پہنچ گیا کہ خوشخبری تک پہنچاتا ہے اسی لیے تو میدان کارزار ہو یا بازار تجارت نماز جمعہ ہو یا ادائیگی مناسک حج مسجد ہو یا گھر حکم وزکر اللہ ذکر کثیرا اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو ہی کا ہے یہ ایسی تاکید ہے جو اللہ تبارک و تعالی نے اپنے اخص الخواص بندوں انبیاء علیہم السلام کو بھی فرمائی۔
اللہ کریم اپنے بندوں کی نشانی ہی یہ بیان کرتے ہیں اللہ کا ذکر کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں ( ال عمران 191 )
درون دل سے اللہ اللہ کی تکرار کرنے والا ہی تو
یذکر اللہ علی کل احیانہ(صحیح البخاری) پہ پورا اترتا ہے ۔اللہ کی تاکید ذکرا کثیرا کا حکم مغفرت اجر عظیما جیسی نوید لیے ہوئے ہیں اور اس سے بڑھ کرونی کا ارشاد جس انعام کی بشارت دیتا ہے وہ ہے میں تمہیں یاد کروں گا۔
قارین کرام ذرا خیال تو فرمائیے اپنی یاد سے غافل نہ ہونے والوں کو وہ خالق حقیقی فرما رہے ہیں کس خوش بختی سے نوازا جا رہا ہے کیا فوز عظیم عطا ہو رہی ہے۔یہاں پہ
اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے ( الفتح 10) کی طرح بعید ہی مراد ہے ہمارا یاد کرنا محتاج بے نوا کا یاد کرنا ہوگا اور اس بارگاہ عظیم میں یاد اتی عطا ہوگی یہاں قاسہ گدائی ہوگا اور وہاں رحمت خاص کی نوازش ہی نوازش ہوگی ادھر پکار ہوگی ادھر جواب ہوگا کیسی عظمت منتظر ہوگی کیا خوبصورت تعلق ہوگا کس کو کہاں رسائی ہوگی ۔
تو کجا من کجا
یہ باتیں سمجھائی نہیں جا سکتی نہ ہی یوں سمجھی جا سکتی ہیں یہ تو کر گزرنے کے کام ہیں ورنہ تو ہماری محدود سی سوچ ان عطاؤں کو سمجھ ہی نہیں سکتی لذت اشنائی کوئی کسی کو کیا سمجھائے کسی کی نگاہ میں ہونے کی عظمت بے بصیرت کیوں کر جان پائے گا ہاں جو جان لیتے ہیں ان کے دن اس کی یاد سے روشن اور راتیں اسی کے نام سے منور ہو جاتی ہیں اور وہ وشکرولی کا مفہوم بھی جان لیتے ہیں کہ اس ذات تے والا صفات کی شکر گزاری کا ایک ہی طریقہ ہے کامل اتباع رسالت ان کی حیات سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈل جاتی ہے ۔
قارین کرام اس ایا کریمہ کے اخر میں حق تعالی کے فرمان والا تکفرون کی تشریح میں قاسم فیوضات رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہاں کفر شکر کے مقابلے میں ایا ہے اس لیے اس کا ترجمہ ناشکری کیا جاتا ہے ورنہ غور کیا جائے تو بات ناشکری سے بڑھ کر کفر تک پہنچ جاتی ہے دراصل مسلمان ہونے کے لیے اقرار باللسان کے ساتھ تصدیق ضروری ہے اگر قلب تصدیق بھی کرتا ہو تو کسی نہ کسی درجے میں ذاکر ہوتا ہے لیکن ذکر بالکل ہی اٹھ جائے تو گویا تصدیق بلقلب بھی رخصت ہوئی تو یہ حقیقی کفر بن جائے گا گویا ابدی بدبختی راندہ درگاہ ہونا اور خود کو تباہی کی گہرائی میں گرا دینا اس انجام بد سے بچنے اور ایسی ذلت و رسوائی سے پناہ میں رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے اس ایت کریمہ کی ابتدا
فزکرونی
مجھے یاد کرو۔

Exit mobile version