BBC Urdu TV

پرچی کا لفظ ہمیشہ منفی تاثر دیتا ہے ۔ لیکن آج میں پرچی کے عنوان سے ایک تحریر لکھنے بیٹھ گیا کہ پرچ

پرچی پر لکھ دو(تحریر:برگیڈیربشیرآراٸیں)

پرچی کا لفظ ہمیشہ منفی تاثر دیتا ہے ۔ لیکن آج میں پرچی کے عنوان سے ایک تحریر لکھنے بیٹھ گیا کہ پرچی کا ایسا استعمال تو کمال ہے ۔

ایک بیوہ کی دو بچیوں کو پڑھانے کی ذمہ داری اللہ تبارک تعالیٰ نے میرے آفس پر ڈالی ہوٸی ہے ۔ دوسرے بچوں کی ماٶں طرح یہ بھی ہر مہینے کی 10 تاریخ تک آفس آتی ہے باقی سب کی طرح اس پر بھی لازم ہے کہ *گزشتہ ماہ کی فیس اداٸیگی کی رسید دکھاٸے تو تب ہی اسے اگلے ماہ کی فیس ملتی ہے* ۔ ہم انہیں آفس آنے پر راشن پیک بھی دے دیتے ہیں ۔
کل یہ عورت مجھ سے ملوانے اپنی دونوں بچیوں کو بھی لے آٸی ۔ بچیاں بہت خوشی سے بتا رہی تھیں *انکل ہم سب نے نمازیں پڑھ پڑھ کر الیکشن میں آپکی کامیابی کی دعاٸیں کی تھیں ۔ آپ کو صدر بننا مبارک ہو* ۔ میں نے شکریہ ادا کرنے کے بعد اسکول فیس کے ساتھ راشن اور عید کے کپڑوں کیلیے ایک لفافہ بڑی بچی کے ہاتھ میں تھما دیا۔ چونکہ یہ عورت عادتاََ ہمیشہ بچیوں کی فیس کے پیسے گن کر لے جاتی ہے ۔ آج بھی اس نے فوراََ بچی کے ہاتھ سے لفافہ لیا اور گننے کو پیسے نکالے تو حیران ہوکر کبھی ہاتھ میں تھامے نوٹوں کو دیکھتی کبھی مجھے کیونکہ وہ صرف فیس کے پیسے سوچ رہی ہوگی ۔
فوراََ صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگٸی ۔ مجھے تو سمجھ ہی نہ آٸی کہ *اوپر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر وہ دہاٸی دے رہی تھی یا دعاٸیں مانگ رہی تھی* ۔ میں بھی اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔ اسے محبت سے بیٹھنے کو کہا مگر وہ دعاٸیں دیتے دیتے رونے لگ گٸی ۔ میں اس کی باتوں سے بس اتنا سمجھ پایا کہ اس نے چار سال پہلے بچیوں کو عید پر نٸے کپڑے لیکر دٸیے تھے اسکے بعد نہیں لے سکی تھی ۔
میں نے اس کی دعاٸیں سن کر کہا کہ بی بی میں یہ سب اکیلا نہیں کرتا ۔ جس شخص نے اس میں میری مدد کی ہے اسے دعاٸیں دو ۔ دعاٶں کا اصل حقدار تو وہ ہے ۔ کہنے لگی پرچی پر اسکا نام لکھ دیں ۔ ساری زندگی ہر نماز پر اس کا نام لیکر دعاٸیں دونگی ۔ *میں نے پرچی پر اس شخص کا نام لکھ کر پرچی لفافے کے ساتھ نتھی کر دی* ۔
تین سال پہلے بھی سیلاب میں اس شخص نے جب سینکڑوں خاندانوں کے نان نفقے کا انتظام کرنے کیلیے میری مدد کی تو کہنے لگا بھاٸی میرا نام نہ آٸے اور اب بھی یہی کہہ کر گیا تھا ۔ مگر تب میں نے سوشل میڈیا پر *نکڑ والا گھر* کے عنوان سے ایک تحریر شیٸر کی تھی اور اس نکڑ والے گھر کا صدقہ بھی محبت سے اپنی جیب سے دیا تھا کہ یہ گھر ہر بلا سے بچا رہے ۔
سچ کہوں تو *اس شخص کی مدد سے میں پچھلے دس دنوں میں سندھ کی سینکڑوں بیواٶں ۔ یتیم بچوں اور آرمڈ فورسز کے شہیدوں کے بچوں کی عید کو میٹھی عید میں بدلنے کا بندوبست کرچکا ہوں* ۔ آج اس عورت کی دعاٸیں سن کر ہر لفافے پر اس شخص کے نام کی پرچی لگا دی ہے ۔ لوگوں کی اتنی ڈھیر ساری دعاٸیں میں اکیلا لیکر کیا کروں گا ۔ ان ساری دعاٶں کا اصل حقدار تو یہ پرچی والا شخص ہے جس نے میرے ساتھ مل کر یہ سب کچھ ممکن بنایا ہے ۔
اگر یہ شخص اس عورت کے آسمان کی طرف اٹھے ہاتھ دیکھنے اور اس کے دل سے نکلی دعاٸیں سننے کو میرے آفس میں خود موجود ہوتا تو میری طرح باتھ روم میں ہچکیاں لے لے کر روتا کہ یا خدا کتنی اہم ضرورتیں ہیں تیری مخلوق کی جو ہم اپنی چھوٹی سی کوشش سے پوری کر سکتے ہیں مگر تو جسے توفیق عطا کرے ۔
تصویر میں *پرچی پر لکھا نام پڑھیں* جس کیلیے نہ جانے سندھ کے کتنے لوگوں کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے دعاٸیں کر رہے ہونگے ۔ میری بھی دعا ہے اللہ تعالیٰ اسکے رزق و مال اور عزت و صحت میں اپنی رحمتوں کے ڈھیر لگا دے تاکہ یہ پرچی ہر ضرورتمند کے گھر پہنچنے لگے ۔ میں ناچیز تو وسیلہ ہوں بس ۔

Exit mobile version